.

نائن الیون حملہ آوروں کا شامی نژاد ’جرمن معاون‘ پکڑا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں نائن الیون کے دہشت گردانہ حملوں کے منصوبہ سازوں کا مبینہ معاون ایک شامی نژاد جرمن جہادی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ شامی حکومتی دستوں کے خلاف سرگرم کرد فورسز کے ایک کمانڈر کے مطابق اسے شمالی شام سے گرفتار کیا گیا۔

برسوں سے خانہ جنگی کے شکار ملک شام میں قامشلی سے جمعرات انیس اپریل کو موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اسد حکومت اور اس کے اتحادی ملیشیا گروپوں کے خلاف فعال کرد فورسز کے ایک کمانڈر نے بتایا کہ اس جرمن عسکریت پسند کا نام محمد حیدر زمار ہے اور وہ ان دہشت گردوں کا معتمد ساتھی تھا، جو 2001ء میں گیارہ ستمبر کے روز امریکا میں متعدد مقامات پر دہشت گردانہ حملوں کے منصوبہ ساز تھے۔

کرد فورسز کے ایک سینیئر کمانڈر نے ذرائع کو صرف اتنا بتایا، ’’زمار کو کرد سکیورٹی فورسز نے شمالی شام سے گرفتار کیا اور اس وقت اس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔‘‘ بتایا گیا ہے کہ محمد حیدر زمار کی عمر اس وقت 55 برس کے قریب ہے اور اس پر یہ الزام بھی ہے کہ امریکا میں نیو یارک سمیت متعدد مقامات پر کیے گئے نائن الیون حملوں کے لیے استعمال ہونے والے مسافر طیاروں کے ہائی جیکروں میں سے چند کو اسی نے بھرتی کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق زمار کو دسمبر 2001ء میں مراکش سے ایک ایسے آپریشن کے دوران حراست میں لیا گیا تھا، جس میں امریکی سی آئی اے کے ایجنٹ بھی شامل تھے۔ تب صرف دو ہفتے بعد ہی اسے شامی حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

پھر 2007ء میں ایک شامی عدالت نے اسے 12 سال قید کی سزا سنا دی تھی کیونکہ اس پر الزام تھا کہ وہ اخوان المسلمون کا رکن تھا۔ تب یہ ایک ایسا الزام تھا، جس کے ثابت ہو جانے پر اسے سزائے موت بھی سنائی جا سکتی تھی۔

شامی جانہ جنگی کے دوران دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے جہادیوں میں سے بہت سے النصرہ فرنٹ میں شامل ہو گئے تھے، جو شروع میں تو شام میں القاعدہ کی مقامی شاخ تھی مگر جس نے بعد میں القاعدہ سے اپنی علیحدگی کا اعلان کر دیا تھا۔