سعودی سیکیورٹی اہلکاروں کو شہید کرنے والا مجرم کون تھا؟ جانئے العربیہ خصوصی رپورٹ میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے صوبے عسیر میں جمعرات کے روز ایک چیک پوسٹ پر فائرنگ کے واقعے میں چار سکیورٹی اہل کار شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ اس مجرمانہ کارروائی میں شریک افراد میں 34 سالہ بندر الشہری بھی شامل تھا جو سعودی شہری دفاع کا اہل کار تھا۔ الشہری سکیورٹی فورسز کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو گیا۔ یہ واقعہ عسیر صوبے کے دو ضلعوں المجاردہ اور بارق کے درمیان ہائی وے پر پیش آیا۔

بندر الشہری جائے وقوع سے ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع تنومہ ضلعے میں اپنے والدین اور 11 بہن بھائیوں کے ساتھ سکونت پذیر تھا۔

الشہری کے ایک عزیز نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ وہ غیر متوازن زندگی گزارنے کا عادی تھا۔ گذشتہ برس وہ ریاض میں ٹائر اسکریچنگ کے دوران ایک خطرناک حادثے کا شکار ہو کر دو ماہ تک ہسپتال میں زیرِ علاج رہا۔ الشہری اکثر وبیشتر گھر سے اچانک غائب ہو جاتا اور پھر دو یا تین روز بعد واپس لوٹ آتا تھا۔ موسم گرما میں الشہری کے کزنز جب اس کے گھر قیام کے لیے جمع ہوتے تھے تو اس وقت بھی وہ زیادہ تر وقت اپنے دوستوں کے ساتھ گھر سے باہر گزارتا تھا۔

سعودی سکیورٹی حکام نے جمعرات کے روز چیک پوسٹ پر حملہ کرنے والے بقیہ عناصر کے نام نہیں بتائے۔ فائرنگ کے واقعے میں تین سکیورٹی اہل کار فوری طور پر شہید ہو گئے تھے جب کہ چوتھے زخمی اہل کار نے بعد میں دم توڑا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں