داعش نے دمشق کے جنوب سے انخلا کی ہامی بھر لی: شامی حکومت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ انتہا پسند تنظیم داعش مذاکرات کاروں کے توسط سے ایک معاہدے پر راضی ہو گئی ہے۔ داعش، روسی نمائندوں اور شامی حکومت کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کے تحت تنظیم دارالحکومت دمشق کا جنوبی علاقہ خالی کر دے گی۔

معاہدے سے قبل شامی حکومت نے جنوبی دمشق پر میزائلوں سے شدید فضائی حملے اور گولا باری کی۔ ان کارروائیوں کے ساتھ ساتھ بشار الاسد کی فوج اور اس کے مسلح حامیوں کی داعش کے ساتھ دارالحکومت کے جنوبی علاقے میں التضامن کالونی اور الیرموک کیمپ کے گرد ونواح میں پرتشدد چھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ شامی فوج کے اس آپریشن کا مقصد داعش پر معاہدہ قبول کرنے کے لیے دباؤ بڑھانا تھا۔ پہلے پہل داعش نے اس معاہدے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔

دوسری جانب روسی ذرائع ابلاغ نے بشار الاسد فوج اور مسلح اپوزیشن گروپوں کے درمیان جنوب مشرقی دمشق کے علاقوں یلدا، ببیلا اور بیت سحم میں ایک فائر بندی معاہدے کی اطلاع دی ہے۔

تاہم القلمون کے علاقے میں واقع قصبات میں بھی رصدگاہ کے مطابق روس اور جنگجووں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت فریقین کے درمیان فائر بندی اور ہتھیار حوالگی کا عمل شروع کیا جائے گا۔ معاہدے کے تحت روس اتفاق رائے سے اختلاف کرنے والوں کی بخیریت منتقلی اور انخلا کرنے والے قافلوں کی تلاشی کا مجاز ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں