سفارتی عملے کی تںخواہ کی شکایت پرسوڈانی وزیر خارجہ برطرف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان کے وزیرخارجہ ابراہیم غندور کو بیرون ملک تعینات سفارتی عملے کی تنخواہوں کی عدم ادائی کی شکایت مہنگی پڑی اور صدر عمر البشیر نے اس شکایت کی پاداش میں انہیں عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ابراہیم غندور نے اپنی سبکدوشی سے چوبیس گھنٹے قبل پارلیمنٹ سے خطاب کیا تھا جس میں انہوں نے بعض سفارت کاروں کو سات ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے کی شکایت کی تھی۔

تاہم سوڈان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے وزیرخارجہ کی برطرفی کی مختصر خبر جاری کی ہے جس میں ان کی سبکدوشی کی وجہ بیان نہیں کی گئی۔

سبکدوش وزیرخارجہ نے پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب میں شکایت کی تھی کہ بنک آف سوڈان بیرون ملک تعینات سفارت خانوں کو رقوم جاری نہ کئے جانے کی شکایت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک تعینات کئی سفارت خانوں کے عملے کو سات ماہ سے تنخواہیں نہیں مل سکی ہیں جس کے باعث وہ سخت پریشانی اور مایوسی کا شکار ہیں۔ تنخواہیں نہ ملنے کے باعث سفارت کار اور دیگر عملہ ملک واپس آنے کی کوشش کررہا ہے۔

سوڈانی وزیرخارجہ کے بیان پر عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر رد عمل سامنے آیا ہے۔

خیال رہے کہ سوڈان بنک گذشتہ تین ماہ سے رقوم کی قلت کا سامنا کرنے کے باعث بیرون ملک قائم سفارت خانوں کو رقوم فراہم نہیں کرسکا۔ رواں سال کےآغاز میں سوڈان ایک نئے اقتصادی بحران کی زد میں آیا جس کے بعد ملک کی معیشت مزید ابتر ہوتی جا رہی ہے۔

66 سالہ ابراہیم غندور کو 2015ء میں وزارت خارجہ کا قلم دان سونپا گیا تھا۔ انہوں نے علی کرتی کی جگہ یہ منصب سنھبالا۔ ان کی نگرانی میں امریکا اور سوڈان کے درمیان 36 ماہ مذکرات جاری رہے جس کے نتیجے میں امریکی حکوم نے خرطوم پرعاید اقتصادی پابندیاں بہ تدریج ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں