یمن: حوثی ملیشیا الحدیدہ کے لوگوں سے مدد کی طالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حوثی ملیشیا کے رہ نما اور باغیوں کی نام نہاد "انقلابی سیاسی کونسل" کے سربراہ صالح الصماد نے یمن کے مغربی صوبے الحدیدہ کے باسیوں سے کہا ہے کہ وہ ملیشیا کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میجر جنرل طارق صالح کی قیادت میں عوامی مزاحمت کاروں اور یمن میں عرب اتحاد نے الحدیدہ صوبے اور اس کی تزویراتی بندرگا کو آزاد کرانے کے لیے عسکری کارروائیاں شروع کی ہیں۔

حوثیوں کے زیر کنٹرول یمنی نیوز ایجنسی کے مطابق الصماد نے تازہ ترین صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے جعمرات کے روز الحدیدہ میں مقامی حکام اور قبائلی عمائدین سے ملاقات کی۔

حوثی رہ نما نے الحدیدہ کے لوگوں پر زور دیا کہ وہ آئندہ دو ماہ کے دوران تیار رہیں تا کہ یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھ اپنا مذاکراتی منصوبہ پیش کریں۔

باغی کونسل کے سربراہ کی گفتگو حوثی ملیشیا کی کمزور پوزیشن کی عکاس ہے جو مختلف محاذوں پر پے در پے شکستوں کا نتیجہ ہے۔ باغیوں کو اب صعدہ میں اپنا آخری گڑھ اور الحدیدہ صوبہ اور اس کی بندرگاہ ہاتھ سے نکل جانے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔

حوثیوں کے زیر کنٹرول صعدہ صوبے میں شہریوں کو ابتر معاشی حالات کا سامنا ہے۔ اس کا سبب حوثیوں کی جانب سے مالی آمدن اور اُن بین الاقوامی امدادات پر قبضہ کر لینا ہے جو صوبے کی بندرگاہوں کے ذریعے مقامی آبادی کے لیے پیش کی گئیں۔

حوثی رہ نما محمد علی الحوثی نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایچلی کی جانب سے مذاکرات سے متعلق منصوبہ پیش کرنے کی مدت میں دو ماہ کی تاخیر پر اندیشوں کا اظہار کیا ہے۔ مذکورہ رہ نما کے مطابق اس سے حالات کو مزید بگڑنے کا موقع ملے گا۔ ادھر مبصرین کا بھی یہ خیال ہے کہ حوثیوں کے سقوط کے بعد کسی قسم کے مذاکرات کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔

یمن میں آئینی حکومت کے نزدیک حوثی ملیشیا کا اس وقت مذاکرات کے لیے کوشاں ہونا درحقیقت وقت کے حصول کی ایک نئی کوشش ہے تا کہ خود کو پھر سے منظّم کیا جا سکے اور عسکری طور پر شکست کا منہ دیکھنے سے بچا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں