.

ایران کی سرزنش کے ذریعے بشار کے جرائم کو روکا جائے : امریکی ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں Foundation for Defense of Democracies کے ڈائریکٹر مارک ڈوبوویٹس اور ادارے کے ایک سینئر مشیر رچرڈ گولڈ برگ نے مطالبہ کیا ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کے شام کے عوام کے خلاف جرائم کا سلسلہ روکا جائے اور اس واسطے بشار کو سپورٹ کرنے والوں کی سرزنش کی جائے، ان میں ایران سرفہرست ہے جو کئی برسوں سے شامی حکومت کو مالی رقوم، ہتھیاروں اور فوجیوں کی صورت میں سپورٹ پیش کر رہا ہے۔ بدھ کے روز امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" میں شائع ہونے والے مشترکہ مضمون میں دونوں ماہرین کا کہنا تھا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے معاملے کے بعد اب واشنگٹن میں ایک اور اہم مسئلے پر توجہ دی جا رہی ہے اور وہ یہ کہ امریکا اس مالی سپورٹ کا سلسلہ کس طرح منقطع کرے جو بشار الاسد کو اقتدار میں باقی رکھے ہوئے ہے۔

ڈوبوویٹس اور گولڈ برگ کے مطابق ایران نے دمشق میں اپنے تزویراتی شراکت دار کی پوزیشن مضبوط کرنے کے واسطے گزشتہ برس 15 ارب ڈالر کے قریب رقم خرچ کی۔ اس رقم سے ہتھیار خریدے گئے اور غیر ملکی شیعہ ملیشیاؤں کی فنڈنگ کی گئی جن میں لبنانی تنظیم حزب اللہ شامل ہے۔ دونوں ماہرین نے باور کرایا کہ صرف تنہا حزب اللہ کے لیے ہی ایران کا سالانہ بجٹ 70 سے 80 کروڑ ڈالر ہے۔

تہران کی جانب سے پاسداران انقلاب کی فورسز کو شام بھیجے جانے اور بشار الاسد کو مالی رقوم اور تیل کی شکل میں امداد پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

دونوں امریکی محققین نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران پر دوبارہ سے مالی اور اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں کیوں کہ وہ دمشق میں بیٹھے آمر کے لیے مسلسل فنڈنگ کر رہا ہے۔ اس طرح ایران نے 2015ء میں چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پائے جانے والے جوہری معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس معاہدے کے تحت ایرانی بینکوں، ایرانی نظام کے اثاثوں اور اقتصادی سیکٹر پر عائد پابندیوں میں نرمی کی گئی۔

مذکورہ محققین کے مطابق اس سیاسی جمود کا خاتمہ ہونا چاہیے اور فرانس اور برطانیہ کے ساتھ رابطہ کاری سے انجام دی گئی عسکری ضرب کا نتیجہ ایرانی اور شامی دونوں حکومتوں کے خلاف حقیقی مالی جنگ کی صورت میں سامنے آنا چاہیے۔

ڈوبوویٹس اور گولڈ برگ کے نزدیک یہ ضروری ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 2011ء کی پابندیوں کو دوبارہ عائد کریں۔ دونوں نے یورپ پر بھی زور دیا کہ وہ ان پابندیوں کی حمایت کرے۔ ان کا آغاز بشار الاسد کو سپورٹ کرنے والے ایرانی بینکوں پر پابندیوں سے ہو اور پھر شامی حکومت کو سپورٹ کرنے والے اداروں اور تنظیمیوں مثلا پاسداران انقلاب اور حزب اللہ کو بھی لپیٹ میں لیا جائے، پابندیوں میں ایرانی اقتصادی سیکٹر کی کمپنیوں ، اداروں اور توانائی کی برآمد پر بھی پابندیاں عائد کی جائیں۔

امریکا اور یورپ پر لازم ہے کہ وہ جوہری معاہدے میں اصلاحات کا عمل 12 مئی تک مکمل کر لیں جو ٹرمپ کی جانب سے مقرر کردہ مہلت کے ختم ہونے کی تاریخ ہے۔ اس کے بعد امریکی صدر فیصلہ کریں گے کہ آیا امریکا معاہدے سے نکل جائے گا یا پھر یورپی ممالک کے لیے مہلت میں توسیع کی جائے گی تا کہ وہ جوہری معاہدے کی اصلاح کی شرائط پر عمل درامد کے لیے ایران سے بات چیت جاری رکھ سکیں۔

دونوں محققین کے نزدیک شامی حکومت کے اہداف کے خلاف حالیہ عسکری حملے نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک نادر موقع فراہم کیا ہے کہ وہ ایران پر شام سے اپنی فورسز واپس بلانے اور بشار الاسد کی سپورٹ سے ہاتھ کھینچ لینے کے حوالے سے دباؤ کو بڑھا دیں۔ بالخصوص جب کہ ایران کے اندر بھی عوامی احتجاج سر اٹھا رہا ہے اور یہ نعرے بلند ہو رہے ہیں کہ "شام سے نکل کر ہمارے حال کی فکر کرو"۔