.

ملائشیا میں فلسطینی پروفیسر قتل ، لواحقین کا اسرائیلی موساد پر الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں ایک فلسطینی پروفیسر اور حماس کے رکن کو دو نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کرکے قتل کردیا ہے۔مقتول کے خاندان نے اسرائیل کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی موساد پر ان کے قتل کا الزام عاید کیا ہے۔

ملائشیا کی پولیس نے بتایا ہے کہ 35 سالہ پروفیسر فادی محمد البطش پر ہفتے کو علی الصباح موٹر سائیکل پر سوار حملہ آور وں نے فائرنگ کی تھی ۔اس وقت وہ نماز فجر کی ادائی کے لیے پیدل مسجد میں جا رہے تھے۔دونوں حملہ آور فائرنگ کے بعد موٹر سائیکل پر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔

غزہ میں مقیم ان کے خاندان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ ہم موساد کو قتل کے اس واقعے کا ذمے دار سمجھتے ہیں اور اسی کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں‘‘۔حماس نے الگ سے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ پروفیسر بطش اس کے ایک رکن تھے ۔ وہ ایک ریسرچ سائنسدان تھے اور وہ توانائی کی ٹیکنالوجی سے متعلق امور کے ماہر تھے‘‘۔

حماس نے اسرائیل پر براہ راست پروفیسر بطش کے قتل کا الزام عاید نہیں کیا ہے۔البتہ انھیں ایک شہید قرار دیا ہے۔فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی نے اس واقعے کے سلسلے میں ایک اسرائیلی عہدہ دار سے رابطہ کیا تو اس نے کسی قسم کا کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

کوالالمپور کے پولیس سربراہ داتو سری مزلان لازم نے بتایا ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار دو مشتبہ افراد میں سے ایک نے 10 گولیاں چلائی تھیں۔ان میں سے چار لیکچرر کے سر اور جسم میں لگی تھیں ۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ’’پولیس کو وہاں سے گولیوں کے دوخالی خول بھی ملے ہیں ۔ علاقے میں نصب کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن کیمروں کی فوٹیج کے مطابق دونوں حملہ آوروں نے فلسطینی لیکچرر کی آمد کا کوئی بیس منٹ تک انتظار کیا تھا۔جونہی وہ وہاں پہنچے تو ان پر گولیاں چلا دیں‘‘۔

پولیس سربراہ کا کہنا تھا کہ ’’ ہمیں یقین ہے کہ ان حملہ آوروں کا ہدف فلسطینی لیکچرر ہی تھے کیونکہ اس دوران میں دو اور افراد وہاں سے گزرے تھے لیکن انھوں نے انھیں کچھ نہیں کہا تھا۔ ہم مشتبہ حملہ آوروں کی شناخت کے لیے علاقے میں نصب تمام سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کریں گے اور موٹر سائیکل کا رجسٹریشن نمبر بھی حاصل کریں گے‘‘۔

مقتول پروفیسر بطش کے خاندان نے ملائشین حکام نے ان کے قتل کے واقعے کی تحقیقات اور فائرنگ کے بعد فرار ہوجانے والے ملزموں کی گرفتار ی کا مطالبہ کیا ہے۔انھوں نے ان کے جسدِ خاکی کو غزہ کی پٹی میں واقع ان کے آبائی قصبے جبالیہ میں واپس بھیجنے کی بھی اپیل کی ہے۔