شام: الیرموک کیمپ میں 24 گھنٹوں کے دوران 5 افراد جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے دارالحکومت دمشق کے جنوب میں داعش تنظیم کے زیر قبضہ الیرموک کیمپ اور دیگر ملحقہ علاقوں پر بشار کی فوج کی بم باری اور گولہ باری کے نتیجے میں گزشتہ 24 کے دوران پانچ افراد جاں بحق ہو گئے جن میں تین افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ شام میں انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والے گروپ المرصد نے اتوار کے روز بتایا کہ اس طرح مذکورہ علاقوں میں کارروائی کے نتیجے میں جمعرات کے روز سے اب تک جاں بحق ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 11 ہو گئی۔ کارروائی میں جنگی طیاروں، توپ خانوں اور میزائلوں کا استعمال کیا گیا۔ شامی حکومت کی فوج کی جانب سے فلسطینی پناہ گزین کیمپ الیرموک اور اس کے نزدیک واقع داعش کے زیر کنٹرول علاقوں کو شدید انداز سے نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہے۔

شامی حکومت نے 2012ء سے الیرموک کیمپ کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ سال 2015ء میں داعش تنظیم نے کیمپ کے اکثر علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ یہاں شامی اپوزیشن اور داعش کے سوا دیگر شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے جنگجو چند ہفتوں قبل انخلاء پر آمادہ ہو گئے تھے۔

البتہ الیرموک پر بم باری میں شدت کے سبب انسانی حقوق کی تنظیموں میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم اونروا نے دمشق میں جمعے کے روز جاری ایک بیان میں شہریوں کے انجام کے حوالے سے اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا جن کو الیرموک کیمپ اور اس کے اطراف بم باری، مارٹر گولوں اور شدید جھڑپوں کا سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں