.

‏‫‏یمن : البیضاء صوبے کی حوثی قیادت ذمار کی جانب فرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے شہر ذمار میں خصوصی ذرائع نے بتایا ہے کہ البیضاء صوبے کے اکثر علاقوں پر سرکاری فوج کے کنٹرول کے بعد حوثی ملیشیا کے درجنوں کمانڈروں نے اپنے اہل خانہ کو ذمار صوبے منتقل کر دیا ہے۔

مذکورہ ذرائع کے مطابق البیضاء میں نمایاں حوثی رہ نما رواں ہفتے اپنے اہل خانہ کے ساتھ فرار ہو کر ذمار شہر پہنچ چکے ہیں۔ اس لیے کہ ذمار اُن پر امن شہروں میں سے ہے جہاں ابھی تک لڑائی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔

البیضاء صوبے کے مختلف ضلعوں میں کچھ عرصہ قبل سرکاری فوج اور حوثی ملیشیا کے درمیان شدید معرکہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ اس دوران سرکاری فوج نے صوبے کے ضلعوں اور علاقوں کی ایک بڑی تعداد پر کنٹرول حاصل کر لیا۔

اتوار کے روز عرب عسکری اتحاد کے طیاروں نے حوثی ملیشیا کی کمک کو تباہ کر دیا جو البیضاء صوبے کے مشرق میں قانیہ کے محاذ کی جانب جا رہی تھی۔

عینی شاہدین کے مطابق کارروائی میں اتحادی طیاروں نے باغیوں کے قافلے پر تقریبا 8 پے درپے حملے کیے۔ حملوں کے نتیجے میں درجنوں حوثی ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ اس کے علاوہ حربی ساز و سامان بھی تباہ ہو گیا جن میں ایک فوجی ٹینک اور حوثیوں کو لے کر جانے والی 8 عسکری گاڑیاں بھی شامل ہیں۔

البیضاء صوبے میں ذرائع نے جمعے کے روز بتایا تھا کہ الطفہ ضلعے میں اتحادی طیاروں کے حملے میں حوثی کمانڈر خالد سیلان عرف ابو حسین مارا گیا۔ وہ دو ضلعوں الطفہ اور الملاجم میں باغیوں کی کمک اور انہیں ہتھیار بند کرنے کا ذمّے دار تھا۔