امریکا کا شام سے جانے کا کوئی ارادہ نہیں : روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے باور کرایا ہے کہ اگرچہ واشنگٹن یہ کہہ چکا ہے کہ اس کے پاس شام سے کوچ کرنے کا منصوبہ ہے تاہم وہ ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

روس ٹوڈے ٹی وی چینل کے مطابق لاؤروف نے منگل کے روز بیجنگ میں "شنگھائی تعاون تنظیم" کے رکن ممالک کے وزراء خارجہ کے اجلاس کے دوران کہا کہ "بعض ممالک پر مشتمل ایک گروپ نے اعلانیہ طور پر شام کی تباہی کی ذمّے داری اپنے کاندھوں پر لی ہوئی ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "واشنگٹن نے ہم سے یہ عہد کیا تھا کہ اس کا واحد مقصد شام سے دہشت گردوں کو نکالنا اور داعش تنظیم کو ہزیمت سے دوچار کرنا ہے"۔

روسی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ شام سے امریکی فورسز واپس بلانے سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے برعکس "امریکا فرات کے مشرق میں تعیناتی کی سرگرمی میں مصروف ہے اور وہاں سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا"۔ لاؤروف کے مطابق "امریکا نے وہاں مقامی اتھارٹی بھی بنا لی ہے"۔

روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ فرانس ان اقدامات کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے اور صدر عمانوئل ماکروں نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ حالات معمول پر آنے تک وہ شام میں رہے۔

سات بڑے صنعتی ممالک کے گروپ "جی سیون" کے وزراء خارجہ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے سرگئی لاؤروف کا کہنا تھا کہ "روس کا خوف واضح طور سے اُن پر چھایا ہوا ہے"۔ مذکورہ بیان میں جی سیون کے وزراء خارجہ نے روس کی مذمت کے حوالے سے یک جہتی کا مظاہرہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں