مصر : محکمہ انسدادِ بدعنوانی کے سابق سربراہ ہشام جنینہ کو پانچ سال قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر میں ایک فوجی عدالت نے انسدادِ بدعنوانی کے محکمے کے سابق سربراہ ہشام جنینہ کو پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ان پر یہ الزام تھا کہ انھوں نے ایک سابق صدارتی امیدوار کے پاس خفیہ دستاویز ات کے موجود ہونے کا دعویٰ کیا تھا اوریہ مبینہ طور پر فوج کے لیے ضرررساں ہوسکتی تھیں۔

ان کےوکیل علی طہٰ نے منگل کو عدالت کے حکم کے بعد کہا ہے کہ ’’ ہشام جنینہ کو پانچ سال قید کا فیصلہ سنایا گیا ہے ۔ہم اس کے خلاف اپیل دائر کریں گے‘‘۔

مصری فوج نے ہشام جنینہ کو فروری میں امریکی نیوز سائٹ ہف پوسٹ عربی کو ایک انٹرویو دینےکے بعد گرفتار کیا تھا۔ان پر الزام عاید کیا گیا تھا کہ وہ ایسی خبریں پھیلا رہے ہیں جو مسلح افواج کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہیں ۔علی طہٰ کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کو عدالت نے اسی الزام میں قصور وار قرار دیا ہے۔

ہشام جنینہ مصر کی مسلح افواج کے سابق سربراہ جنرل سامی عنان کی صدارتی انتخابات کےلیے مہم کے مشیر تھے لیکن مصری فوج نے جنرل سامی عنان کو بھی صدر عبدالفتاح السیسی کے مد مقابل گذشتہ ماہ منعقدہ صدارتی انتخابات کے لیے میدان میں اترنے کے اعلان کے بعد گرفتار کر لیا تھا۔

ہشام جنینہ نے مذکورہ انٹرویو میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ سابق فوجی سربراہ کے پاس سنہ 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک اور اس کے بعد کے برسوں میں ہونے والی سیاسی اتھل پتھل سے متعلق دستاویزات ہیں ۔یہ بیرون ملک کسی جگہ پر محفوظ ہیں اور اگر سامی عنان کو نقصان پہنچایا گیا تو انھیں جاری کیا جا سکتا ہے۔

ان سے انٹرویو کرنے والے صحافی معتز وضنان کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔واضح رہے کہ ہشام جنینہ مصر کی سنٹرل آڈٹنگ اتھارٹی کے سربراہ تھے۔انھیں صدر السیسی نے 2016ء میں اس عہدے سے محض اس بیان کی پاداش میں ہٹا دیا تھا کہ انھوں نے مصری اداروں میں کرپشن کے بارے میں مبالغہ آرائی سے کام لیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں