یورپی ممالک جوہری معاہدہ بچانے کے لیے "تاوان" ادا نہ کریں : ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران کے ایک سینئر عہدے دار نے تاریخی جوہری معاہدے کو بچانے کے لیے یورپی طاقتوں کی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے۔

منگل کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی قومی سلامتی کی سپریم کونسل کے سکریٹری جنرل علی شمخانی نے کہا کہ "ہم امریکا کے جوہری معاہدے میں رہنے کے حوالے سے یورپی یونین کے اصرار کو بھرپور انداز سے سراہتے ہیں"۔

شمخانی کا مزید کہنا تھا کہ "تاہم اگر اس کا مطلب ایران کی اہانت یا ٹرمپ کو تاوان کی ادائیگی ہے تو پھر یورپ ایک تزویراتی غلطی کا ارتکاب کر رہا ہے"۔

معاہدے میں شامل یورپی ممالک اس وقت ٹرمپ کو معاہدے کی پاسداری جاری رکھنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

فرانسیسی صدر عمانوئل ماکروں اس وقت واشنگٹن کے دورے پر ہیں جس کا بنیادی مقصد ایرانی جوہری معاہدے پر بات چیت ہے۔

شمخانی کا کہنا ہے کہ ایران کسی بھی ملک کو کسی صورت میں سُرخ لکیر پار کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

وہائٹ ہاؤس یہ مطالبہ کر چکا ہے کہ خطے میں ایرانی برتاؤ اور اس کے جوہری اور بیلسٹک پروگرواموں کے سبب پابندیوں کو سخت کیا جائے۔ تاہم ایران کا کہنا ہے کہ اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر روک لگانے کے لیے کسی بھی بات چیت کا کوئی امکان نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں