.

برّاعظم افریقہ میں ایران کا روز افزوں اثر ونفوذ: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام پر بھرپور توجہ مرکوز کرنے کے باوجود ایران نے براعظم افریقہ میں اپنے اثرو نفوذ میں توسیع کی کوششوں میں کوئی کمی نہیں آنے دی۔ ایران اس براعظم میں مفت سماجی خدمات کے نیٹ ورک کی صورت میں اربوں خرچ کر رہا ہے۔ اس نیٹ ورک میں ہسپتال، یتیم خانے، 100 سے زیادہ دینی مدارس کے قیام، سیمینارز اور کانفرنسز کے انعقاد کے علاوہ رشوت اور بخشیش شامل ہے جو حکومتوں کی "مالی امداد" کے نام سے پیش کی جاتی ہے۔

افریقہ کے لیے ایران کی خارجہ پالیسی کے اہداف میں وہاں کے مسلم معاشروں میں اپنے نظریات کی منتقلی، دہشت گرد کارروائیوں کے لیے راہ ہموار کرنا، مشرق وسطیٰ کے لیے ہتھیار بھیجنا، خام یورینیم تک رسائی، بین الاقوامی پابندیوں سے تجاوز، ہتھیار اور جوہری پروگرام کے لیے لوازمات کی خریداری شامل ہے۔

عالمی برادری پر لازم ہے کہ وہ اس پالیسی کے خاتمے کے لیے پُرعزم فیصلہ کرے بالخصوص جب کہ افریقہ میں کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ایرانی ہلالِ احمر تنظیم افریقہ کے 12 ممالک میں شفا خانوں کی نگرانی کر رہی ہے۔

براعظم افریقہ کی آبادی 1.2 ارب نفوس پر مشتمل ہے جن میں نصف مسلمان ہیں۔ ان میں اکثریت شمالی افریقہ میں مصر سے موریتانیہ تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ تمام ممالک انقلابی نظریات کی برآمد اور اندرونی معاملات میں مداخلت کے حوالے سے ایران کے طریقہ کار کو جان گئے ہیں۔

افریقہ کے جنوبی صحراء میں کروڑوں لوگ رہتے ہیں جن کو تعلیم سمیت بنیادی خدمات کی شدید ضرورت ہے۔ ایسے میں المصطفی یونیورسٹی ائمہ کی تربیت اور دیگر فکری اور مذہبی سرگرمیوں کے تحت ایران کے تعلیمی بازو کا کردار ادا کر رہی ہے۔

اس یونیورسٹی کا صدر دفتر ایران کے شہر قُم میں ہے اور اسے براہ راست رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نگرانی میں چلایا جا رہا ہے۔ دنیا کے مختلف براعظموں کے کم از کم 60 ممالک میں اس یونیورسٹی کی شاخیں ہیں جہاں 40 ہزار ائمہ کو تعلیم وتربیت دی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ گذشتہ دس برسوں میں یونیورسٹی کے ایران میں مرکز اور بیرون ممالک شاخوں سے تقریبا 45 ہزار طلبہ فارغ التحصیل ہوئے۔ افریقہ کے 17 ممالک میں یونیورسٹی کی مرکزی شاخیں ہیں۔ ان کو 30 ممالک کی ذیلی شاخوں کی سپورٹ حاصل ہے۔ ان کے تحت مجموعی طور پر 100 اسلامی مدارس اور مراکز کا انتظام و انصرام چل رہا ہے۔ اس وقت المصطفیٰ یونیورسٹی کی ایران اور ایران سے باہر شاخوں میں 6 ہزار افریقی مذہبی شخصیات اسباق اور کورسز میں شریک ہیں۔

افریقہ میں ایران کا کردار "فلاحی اور تعلیمی" پہلوؤں تک محدود نہیں بلکہ اس کا اہم کردار ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر ہے جہاں سے جنگجو تنظیموں کو میزائل اور ہتھیار بھیجے جا سکیں۔ یاد رہے کہ اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے اکتوبر 2012ء میں سوڈان کے اندر ایران سے مربوط ایک اہم کارخانہ تباہ کر دیا تھا۔

علاوہ ازیں سعودی عرب اور یمن کے مغرب میں واقع افریقی ملک جیبوتی بھی تہران کا ایک اہم حلیف رہا۔ ایران نے اس کی بندرگاہیں حاصل کرنے کے عوض وہاں پارلیمنٹ اور ایک تجارتی مرکز بنانے پر کروڑوں ڈالر خرچ کر ڈالے۔ جیبوتی کے مثالی محل وقوع کے سبب ایران یمنی حوثیوں کو ہتھیار پہنچانے کے لیے ایک محفوظ راستہ بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ جیبوتی آبنائے باب المندب کے نزدیک واقع ہے جو بحر احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل جیبوتی نے ایران سے تعلقات ختم کر کے اپنی بندرگاہوں کو بند کر دیا تھا اور عرب اتحاد کا حامی بن گیا۔

کئی افریقی حکومتوں نے، جن میں نائیجیریا نمایاں ہے،ایرانی ہتھیاروں اور گولہ بارود کی کھیپوں کو ضبط کیا جو فلسطینی اور افریقی عناصر کے لیے بھیجی جا رہی تھیں۔ اس دوران میں ایرانی پاسداران انقلاب سے تعلق رکھنے والے گروہوں کا بھی انکشاف کیا گیا تھا۔

ایران اپنے دست راست یعنی لبنانی ملیشیا حزب اللہ کو بھی استعمال کر رہا ہے جو افریقہ اور لاطینی امریکا میں ہجرت کرنے والی لبنانی شیعہ کمیونٹی کے حلقوں میں اثر و رسوخ کی حامل ہے۔

افریقی اور لاطینی امریکا کی حکومتیں متعدد مرتبہ حزب اللہ کے زیر انتظام گروہوں کا انکشاف کر چکی ہیں جو منی لانڈرنگ کے دھندے، ہتھیاروں اور منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔

افریقہ کے استحصال کا ایران کے خطرناک جوہری پروگرام کی پیش رفت میں اہم کردار رہا ہے۔ ایران نے نمیبیا، ملاوی اور بالخصوص نیجر کی کانوں سے نکالے جانے والے یورینیم پر بھرپور طریقے سے ہاتھ صاف کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے براعظم افریقہ کے حالیہ دورے میں یہ بات واضح طور پر سامنے آئی کہ تہران اقوام متحدہ اور اس کی ذیلی کمیٹیوں میں افریقی ووٹوں کے حصول کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

سال 2011ء سے 2013ء کے درمیان کالے دھن کو سفید بنانے کے اسکینڈل کے بعد باباک زنجانی اور رضا ضراب کے نیٹ ورکس کے خاتمے سے انکشاف ہوا کہ افریقی ملک گھانا سونے کے ایک اہم ذریعے کے طور پر ایران کے لیے کتنی زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔اقوام متحدہ اور کئی بین الاقوامی حلقوں اور پلیٹ فارمز میں جنوبی افریقہ نے متعدد مرتبہ ایران کے حق میں ووٹ دیا۔