.

قابض اسرائیلی فوج نے فلسطینی مزاحمت کار کا مکان دھماکے سے اڑا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قابض صہیونی فوج نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین میں ایک فلسطینی مزاحمت کار احمد قنبع کے مکان کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں گھرمیں رہنے والے افراد مکان کی چھت سے محروم ہو گئے۔

عینی شاہدین نےالعربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ منگل کو علی الصباح اسرائیلی فوج کی بھاری نفری نے جنین کی البساتین، جنین کیمپ اور شاہراہ حیفا پر دھاوا بولا اور اسیر فلسطینی احمد قنبع کے مکان کا محاصرہ کر لیا۔

خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے احمد قنبع کو رواں سال جنوری میں حراست میں لیا تھا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے 9 جنوری کو ایک یہودی ربی ’ریزیئیل شیفاح‘ کو حاوات گیلاد کالونی کے قریب قتل کر دیا تھا۔

گذشتہ روز اسرائیلی فوج نے انتقامی کارروائی کے تحت اسیر قنبع کے مکان کا محاصرہ کیا۔ اس کا گھر پہلے ہی خالی کرا لیا گیا تھا۔ محاصرے کے بعد آس پاس کے مکانات کو بھی خالی کرایا۔اس کے بعد اس میں جگہ جگہ بارود نصب کیا اور زور دار دھماکے سے اڑا دیا۔ مکان کی مسماری کی ایک فوٹیج ذرائع ابلاغ پر بھی نشر کی گئی ہے جس میں مکان کو ملبے کے ڈھیر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ قابض صہیونی فوج کےہاتھوں کسی فلسطینی خاندان کے مکان کی مسماری کا یہ پہلا موقع نہیں۔ اس طرح کے واقعات اب روز کا معمول بن چکے ہیں۔ صہیونی فوج معمولی نوعیت کے واقعات کی آڑ میں فلسطینیوں کے گھروں کو دھماکہ خیز مواد سے مسمار کردیتی ہے۔

اسرائیلی فوج گذشتہ کچھ عرصے سے مزاحمتی کارروائیوں میں ملوث قرار دیے گئے فلسطینیوں کے اہل خانہ کو اجتماعی سزا دینے کے لیے ان کے گھروں کی مسماری کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ہے۔

اسرائیل میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’بتسلیم‘ کے مطابق سنہ 1967ء کی جنگ کے بعد 2005ء تک اسرائیل نے فلسطینیوں کے سیکڑوں مکانات مسمار کیے ہیں جس کےنتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہوئے۔ سنہ 2005ء کے بعد فلسطینیوں کےخلاف اجتماعی انتقامی کارروائی کے تحت ان کے مکانات کی مسماری کا سلسلہ شروع کیا گیا جو آج تک جاری ہے۔