.

ملائیشیا : فلسطینی پروفیسر کے مبینہ قاتلوں کے بارے میں نئی معلومات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملائیشیا کی پولیس نے اس غالب گمان کا اظہار کیا ہے کہ چند روز قبل کوالالمپور میں قتل کر دیے جانے والے فلسطینی پروفیسر انجینئر فادی البطش کے دونوں مبینہ قاتل ابھی تک ملک میں موجود ہیں۔ پولیس نے ان میں ایک شخص کی نئی تصویر بھی جاری کی ہے۔

پولیس کے انسپکٹر جنرل محمد فوزی ہارون نے صحافیوں کو بتایا کہ جائے حادثہ سے تقریبا 9 منٹ کی مسافت پر کاواساکی ماڈل کی ایک موٹر بائیک بھی ملی ہے جس کو ایک جھیل کے نزدیک چھوڑ دیا گیا تھا۔ ہارون کے مطابق حکام یہ سمجھتے ہیں کہ دونوں مشتبہ افراد جنوری کے اواخر میں ملائیشیا میں داخل ہوئے تاہم یہ نہیں معلوم کہ ان کی شہریت کیا ہے اور وہ کہاں سے آئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم ابھی تک ان کی شناخت کا تعین نہیں کیا ہے تاہم ہمیں شبہ ہے کہ ان دونوں افراد نے ملائیشیا میں داخل ہوتے وقت یا پھر یہاں موجودگی کے دوران جعلی شناخت کا استعمال کیا۔

ملائیشیا کے حکام نے مشتبہ افراد کی بنیادی طور پر جو تصاویر جاری کیں وہ کمپیوٹر نے تیار کی تھیں۔ اس حوالے سے دو میں سے ایک مشتبہ شخص کی نئی تصویر کا انکشاف ہوا ہے۔ اس میں موجود شخص کھلتی رنگت، گھنے بال اور چھوٹی داڑھی کے ساتھ نظر آرہا ہے۔

یاد رہے کہ ملائیشیا کے نائب وزیراعطم احمد زاہد حمیدی نے ہفتے کے روز خیال ظاہر کیا تھا کہ دونوں مشتبہ افراد کا تعلق یورپ سے ہے اور وہ غیر ملکی انٹیلی جنس ادارے کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

غزہ پٹی میں فلسطینی تنظیم حماس نے فادی البطش کو ہلاک کرنے کا الزام اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے موساد پر عائد کرتے ہوئے انتقامی کارروائی کی دھمکی بھی دی۔ ادھر اسرائیل نے اس الزام کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

اس سے پہلے بھی موساد ایجنسی پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ دنیا کے مختلف علاقوں میں بڑی شخصیات جن میں فلسطینی بھی شامل ہیں ان کو موت کے گھاٹ اتار چکی ہے۔

موساد پر 2010ء میں دبئی کے ایک ہوٹل کے کمرے میں حماس کے عسکری کمانڈر محمود المبحوح کو قتل کرنے کا بھی الزام ہے۔ سال 2016ء میں حماس نے موساد کو ملامت کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ڈرون طیاروں کے شعبے میں مہارت رکھنے والے حماس کے ایک تیونسی ماہر کی ہلاکت میں ملوث ہے۔

فلسطینی پروفیسر فادی البطش الیٹریکل انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھتے تھے اور کوالالمپور یونیورسٹی میں لیکچرار تھے۔