حوثی افرادی قوت کے لیے ریاستی ملازمین سے مدد کے طلب گار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے ایرانی پروردہ حوثی باغیوں کو شدید افرادی قوت کی قلت کا سامنا ہے جس کے باعث ان کی شہریوں کوجنگ کے لیے بھرتی کرنے کی تمام مہمات رائیگاں گئی ہیں۔ باغی سرکاری ملازمین سے افرادی قوت میں مدد لینے پر مجبور ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حوثیوں کی طرف سے ایک سال سے زاید عرصے سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور مالی مراعات بند کی گئی ہیں۔ بچوں کو جنگ میں جھونکنے نوجوانوں کو بھرتی کرنے کی مہمات میں ناکامی کےبعد اب ان سرکاری ملازمین کو بھی جنگ کا ایندھن بنانے کی سازشیں شروع کردی گئی ہیں۔

حوثی شدت پسندوں کی طرف سے یمن کے سرکاری اقتصادی ادارے کے ملازمین کے نام ایک سرکلر جاری کیا گیا ہے جس میں جنگ میں حصہ لینے کے خواہاں افراد سے ان کے نام مانگے گئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ اسی سرکلرسے ملتے جلتے دعوتی پیغامات دوسرے سرکاری اداروں کو بھی بھجوائے گئے ہیں۔ سرکاری ملازمین کو یہ لالچ دیا گیا ہے کہ اگر وہ میدان جنگ میں خدمات انجام دینے کے لیے رضامندی کا اظہار کریں تو ان کے روکے گئے واجبات اور سابقہ تنخواہیں بھی ادا کردی جائیں گی۔

تازہ دستاویز 23 اپریل 2018ء کو جاری کی گئی ہے۔ اس سرکلر میں حوثی لیڈر حسن المرانی المعین کے دستخط ثبوت ہیں۔ موصوف یمن کی سرکاری اقتصادی فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر ہیں۔ انہوں نے محکمے میں ایسے افراد کے نام مانگے ہیں جو اپنی سابقہ تنخواہوں کی بحالی کے عوض کم سے کم تین دن تک میدان جنگ میں خدمات انجام دینے کے لیے تیار ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حوثی لیڈروں کی طرف سے سرکاری محکموں میں تعینات کردہ اپنے ایجنٹوں کو بھی ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ سرکاری ملازمین کو میدان جنگ میں حوثیوں سے مل کرآئینی حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے افراد کو تیار کریں۔

خیال رہے کہ حوثی شدت پسندوں کو افرادی قوت کی قلت کا یہ پہلا موقع نہیں بلکہ وہ گذشتہ کچھ عرصے سے شدید افرادی قوت کی کمی کا سامنا کررہے ہیں۔ انہوں نے اپنے مذموم جنگی مقاصد کے لیے یمن کے بچوں کو بھی استعمال کرنے سے گریز نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں