ملائیشیا میں فلسطینی پروفیسر کے قاتل کا اصل چہرہ!

مقتول فلسطینی پروفیسر کی بیوہ کا وطن واپس لوٹنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اکیس اپریل ہفتے کے روز ملائیشیا کے دارالحکومت کولالمپور میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے فلسطینی پروفیسر ڈاکٹر فادی البطش کے مجرمانہ قتل کے واقعے کے بعد قاتلوں کے بارے میں اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔

ملائیشیا کے انسپکٹر جنرل پولیس محمد فوزی بن ھارون نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر البطش کے مبینہ قاتل کی ایک تصویر صحافیوں کے سامنے پیش کی تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس تصویر کا مآخذ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پولیس چیف محمد فوزی بن ھارون نے بتایا کہ ڈاکٹر البطش کے قتل میں استعمال ہونے والی ’BMW‘ کمپنی کی 1100cc موٹرسائیکل برآمد کرلی گئی ہے۔

انوہں نے بتایا کہ فلسطینی پروفیسر محمد فادی البطش دس سال سے کولالمپور میں مقیم تھے۔ انہوں نے ملایا یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجینیرگ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی اور وہ اسی یونیورسٹی میں تدریس کے فرائض بھی انجام دے رہے تھے۔

ملائیشیا کے پولیس چیف نے بتایا کہ ڈاکٹر البطش کے قاتلوں نے جو موٹرسائیکل استعمال کی اس سے جائے وقوعہ سے کوئی کلو میٹر کے فاصلے پر ویران علاقے میں چھوڑ کر فرار ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ قاتل ماہر اور پیشہ ور لگتے تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ڈاکٹر البطش کولالمپور میں اپنی اہلیہ ’ایناس‘ اور تین بچوں کے ہمراہ رہ رہے تھے۔ ان میں سے بڑے بچے کی عمر چھ، چھوٹے کی پانچ اور تیسرے اور سب سے چھوٹے کی صرف ایک سال ہے اور اس کا نام محمد رکھا گیا ہے۔

اس سے قبل مقتول کے بھائی ڈاکٹر رامی البطش نے بھی العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کی اور اپنے بھائی کے قتل کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ کولالمپور پولیس کی طرف سے ڈاکٹر البطش کے قاتلوں کی جو تصاویر جاری کی گئی ہیں وہ کمپیوٹرائزڈ ہیں۔ ان کے خاکے عینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں تیار کیے گئے ہیں۔

جہاں تک پولیس چیف کی طرف سے بدھ کے روز پیش کردہ تصویر کا تعلق ہے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قاتل ابھی ملک کےاندر موجود ہیں کیونکہ ان کا ہم شکل کوئی بھی شکل حالیہ دونوں میں بیرون ملک نہیں گیا۔ فوزی بن ھارون کا کہنا ہے کہ انہیں شبہ ہے کہ قاتل جعلی دستاویزات پر ملائیشیا داخل ہوئے اور ان جعلی دستاویزات کو استعمال کرتے ہوئے فرار ہوسکتےہیں۔

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ آیا وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ فلسطینی پروفیسر کے قاتل میں اسرائیل کا خفیہ ادارہ’موساد‘ ملوث ہے جیسا کہ حماس نے بھی الزام عاید کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں غیرملکی ایجنسیوں کے ملوث ہونے کا شبہ ہے مگر وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ آیا اس کارروائی میں کس کاہاتھ ہے۔

ایک سوال کے جواب میں .ملائیشیا کے پولیس چیف فوزی بن ھارون نے کہا کہ فلسطینی پروفیسر کے قتل کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کی صورت میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے ساتھ یہ پتا بھی چل سکتا ہے کہ آیا اس واردات میں کس کا ہاتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تحقیقات کئی پہلوؤں سے جاری ہے اور بہت سے قرائن سامنے آئے ہیں۔ جہاں تک ملزمان کے خاکوں کا تعلق ہے تو وہ عینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں تیارکیے گئے ہیں انہیں اس لیے جاری کیا گیا تاکہ لوگ انہیں پہچان سکیں۔

وطن واپسی کا اشارہ

ملائیشیا کے ایک مقامی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں فلسطینی پروفیسر کی بیوہ کا کہنا تھا کہ ’انشاء اللہ ہم جلد ہی غزہ میں نئی زندگی شروع کریں گے‘ ان کا اس بات سے واپس غزہ لوٹنے کا اشارہ ہے۔ وہ خود بھی ملایا یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی طالبہ ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ میری تعلیم جاری رکھنے میں میرے شوہر کا کردار تھا اور میں سے تکمیل تک جاری رکھوں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں