’البطش کے قتل کے حوالے سے ملائیشیا نے کوئی رابطہ نہیں کیا‘

مقتول فلسطینی سائنسدان کے بھائی جسد خاکی لے کر کولالمپور سے روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ملائیشیا میں قائم فلسطینی سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 21 اپریل کو کولالمپور میں نماز فجر کے وقت نامعلوم افراد کے حملے میں مارے جانے والے فلسطینی نوجوان پروفیسر ڈاکٹر فادی البطش کی میت تدفین کے لیے اس کے آبائی علاقے غزہ روانہ کرنے کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ بدھ کے روز مقتول ڈاکٹر فادی البطش کا جسد خاکی سیلانگ اسپتال سے مسجد ایدمان منتقل کیا گیا۔ جہازں نماز جنازہ کی ادائی کے بعد کولالمپور کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے مصر کے دارالحکومت قاہرہ اور وہاں سے غزہ کی پٹی منتقل کیا جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فادی البطش کے بھائی رامی البطش نے کہا کہ ہمیں فلسطینی سفارت خانے کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ مقتول فلسطینی سائنسدان کے جسد خاکی کو فلسطین منتقل کرنے کی اجازت حاصل کرلی گئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کے بھائی کا جسد خاکی بہ حفاظت اور کسی رکاوٹ کے بغیر ملائیشیا سے غزہ منتقل کیا جائے گا۔

جرمنی سے کولالمپور پہنچنے والے ڈاکٹر رامی البطش نے بتایا کہ ان کے بھائی کے قتل کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات کے بارےمیں ملائیشیا کے حکام نے ان سے کوئی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملائیشیا کے تحقیقاتی اداروں کی طرف سے کی جانے والی تحقیق کے نتائج کے منتظر ہیں۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر فادی البطش کو ہفتے کو کولالمپور میں نامعلوم مسلح افراد نے نماز فجر کے وقت گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔ مقتول کے اہل خانہ نے اس واردات کی ذمہ داری اسرائیل کے خفیہ ادارے ’موساد‘ پر عاید کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں