.

انور سادات اقتدار سے الگ ہونا چاہتے تھے: دستاویزات میں انکشاف

سیناء کی واپسی کے بعد سادات سیاست سے سبکدوش ہونا چاہتے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی ذرائع ابلاغ کی جانب سے جاری کردہ ایک خفیہ دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مصرکے سابق مقتول صدر انور سادات منصب صدارت سے الگ ہونے پر غور کر رہے تھے مگر قتل نے انہیں ایسا کرنے کا موقع نہ دیا۔

’العربیہ‘ کے مطابق اس وقت قاہرہ میں متعین برطانوی سفیر نے اپنی ایک حکومت کو ایک رپورٹ ارسال کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ صدر سادات اقتدار چھوڑنے پر غور کر رہے تھے مگر ان کی المناک موت نے ایسا کرنے کا موقع نہ دیا۔

سابق برطانوی سفیر مائیکل ویر نے دستاویز میں لکھا تھا کہ صدر سادات اقتدار چھوڑنے پرغور کر رہے ہیں تاہم اس کے سات ماہ کے بعد انہیں قتل کر دیا گیا تھا۔

برطانوی سفیر نے لکھا کہ صدر سادات نے اس وقت ہی اقتدار چھوڑںے پرغور شروع کر دیا تھا جب 25 اپریل 1981ء کو مصر نے جزیرہ نما سینا کا آخری حصہ بھی اسرائیل سے واپس لے لیا تھا۔

سفیر کے مطابق انور سادات کے ذہن میں تھا کہ وہ جلد ہی اقتدار سے الگ ہو جائیں گے مگر عوام کی ان کے بارے میں توقعات اس سے بھی کہیں زیادہ تھیں۔

برطانوی سفیر نے یہ رپورٹ انور سادات کے قتل کے 23 دن بعد جاری کی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے صدر کے قتل سے پانچ ماہ قبل صدر سادات سے ملاقات کی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک برطانوی لارڈ نے انور سادات کو بیت المقدس کے دورے پر قائل کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس ملاقات میں تین ملٹری اتاشی اور ان کی بیگمات بھی موجود تھیں۔