ایران کا "فیوچر بینک" دہشت گردی کی فنڈنگ کا مرکز : بحرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بحرین کے وزیر داخلہ شیخ راشد بن عبداللہ آل خلیفہ نے باور کرایا ہے کہ ایران کا فیوچر بینک جو بحرین میں کام کر رہا تھا وہ دہشت گردی کے لیے مالی رقوم کی فراہمی کے مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔

شیخ راشد نے یہ بات پیرس میں دہشت گردی کی فنڈنگ کے انسداد کے حوالے سے منعقد دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

بحرینی وزیر کے مطابق بینکاری کی خلاف ورزیوں کے سبب بحرین کے مرکزی بینک نے 2015ء میں "ایرانی فیوچر بینک" کو (جو بحرین میں کام کر رہا تھا) اپنے زیر انتظام کر لیا تھا۔ بعد ازاں یہ ثابت ہو گیا کہ یہ بینک دہشت گردی کی فنڈنگ کے مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔ سال 2016ء میں فیوچر بینک کے دو ایرانی حصّے داروں یعنی صادرات بینک اور ملّی بینک نے ہیگ میں عالمی عدالتِ انصاف میں فیصلے کے لیے مقدمہ دائر کر دیا۔

بحرینی وزیر داخلہ نے بتایا کہ قانونی دفاع کی تیاری کے دوران ہی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ فیوچر بینک کی انتظامیہ مختلف خلاف ورزیوں کی مرتکب رہی ہے۔ ان میں"wire stripping" کی کارروائیوں کے ذریعے 4.7 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ، بینکوں کے درمیان خطوط کے ارسال کے ذریعے پرانا روایتی طریقہ اپنا کر 2.7 ارب ڈالر کی منی لاںڈرنگ ، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تجارتی بنیادوں پر 1.5 ارب ڈالر کے بین الاقوامی قرضوں اور فنڈنگ کا اجرا شامل ہیں۔ ان تمام کارروائیوں کا مقصد بحرین کے اندر دہشت گردی کی فنڈنگ کے منصوبوں کا قیام اور ایرانی اثر و رسوخ کو تقویت بخشنا تھا۔

شیخ راشد نے واضح کیا کہ کئی ماہ کی تحقیقات کے دوران جن غیر قانونی مالی رقوم کا انکشاف ہوا ان کا مجموعی حجم 9 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی رقوم کا دہشت گرد کارروائیاں انجام دینے والوں اور ان میں شریک عناصر کے ہاتھوں میں پہنچنا انتہائی خطرناک امر ہے۔

بحرین کے وزیر داخلہ نے باور کرایا کہ ان کا ملک شدت پسندی اور دہشت گردی کے انسداد اور اس کی فنڈنگ کے سُوتے خشک کرنے کے سلسلے میں بین الاقوامی کوششوں میں شریک رہے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں