.

سعودی خواتین ڈرائیونگ کی تربیت کہاں سے حاصل کر رہی ہیں؟

قومی کمیٹی برائے ویمن ڈرائیونگ کے چیئرمین کی ’العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ کی تربیت کی نگرانی قومی کمیٹی کے چیئرمین نے اس تاثر کی سختی سے نفی کی ہے کہ خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملنے کے بعد شہروں میں گاڑیوں کا ھجوم بڑھ جائے اور ٹریفک کے مسائل پیدا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس حوالے سے تمام ضروری انتظامات کیے ہیں۔ خواتین کی ڈرائیونگ سے سڑکوں پر ٹریفک بلاک ہونے یا دیگر مسائل پیدا ہونے کا کوئی اندیشہ نہیں۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ویمن ڈرائیونگ کی قومی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر مخفور آل بشرنے کہا کہ خواتین کی ڈرائیونگ کی وجہ سے ٹریفک کے مسائل محض ایک غلط قیاس آرائی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈرائیونگ میں دلچسپی رکھنے والی خواتین باقاعدہ پیشہ ور تربیتی اداروں سے ڈرائیونگ سیکھ رہی ہیں۔ ان اداروں میں نہ صرف گاڑی چلانے کی تربیت دی جاتی ہے بلکہ انہیں دو ماہ کا ایک کورس کرانے کی بھی تیاری کی جا رہی ہے جس میں انہیں ٹریفک سے متعلق تمام ضروری ہدایات اور معلومات سے آگاہ کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں جامعات میں خواتین کی ڈرائیونگ کے کورسز بھی شامل رہے ہیں۔ جامعات سے باہر ایسی تربیتی اسکولوں میں فیسوں میں اضافہ بھی کیا گیا تاہم اس کے باوجود خواتین کی بڑی تعداد ان اسکولوں سے تربیت حاصل کر رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں آل بشر نے کہا کہ جامعات میں ڈرائیونگ سے متعلق نصاب مردوں اور خواتین کے لیے ایک ہی ہے۔ اس میں کوئی فرق نہیں۔ دنیا بھر میں ڈرائیونگ کو جامعات میں کے کورسز میں شامل رکھا جاتا ہے اور اس باب میں مردوخواتین کی کوئی تخصیص نہیں کی جاتی۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بعض تربیتی ادارے نجی سطح پر خواتین کی ڈرائیونگ کے کورس کراتے ہیں۔ ان کے ہاں قیمتوں میں اضافہ ان کے اخراجات اور سرمایہ کاری کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ فی الحال سعودی عرب میں خواتین کو مردوں کے لیے قائم کردہ ڈرائیونگ اسکولوں میں تربیت دی جا رہی ہے تاہم آنے والے وقت میں خواتین کے لیے مخصوص ڈرائیونگ اسکول بھی قائم کیے جائیں گے۔