واپسی میں تاخیر کا مقصد فوج کا امتحان لینا تھا: خلیفہ حفتر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لیبیا کی فوج کے سربراہ جنرل خلیفہ حفتر نے باور کرایا ہے کہ ان کی "صحت اچھی" ہے اور وہ عوام کی ان توقعات کو پورا کرنے کے خواہش مند ہیں کہ لیبیا ایسے تمام گروہوں سے پاک ہو جائے جنہوں نے لیبیا کے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ حفتر کے مطابق انہوں نے اپنی واپسی مؤخر کی تا کہ مسلح افواج کا امتحان لیا جا سکے۔ لیبیا کی فوج کے سربراہ پیرس میں علاج کے بعد جمعرات کے روز واپس لیبیا پہنچے تھے۔

حفتر نے گزشتہ چار برسوں کے دوران لیبیا کی فوج کی تمام تر کوششوں اور کامیابیوں کو سراہا یہاں تک کہ وہ براعظم افریقہ کی طاقت ور ترین فوجوں میں نویں پوزیشن پر آ گئی۔

خلیفہ حفتر جمعرات کے روز مصری دارالحکومت قاہرہ سے بنغازی کے بنینا بین الاقوامی ہوائی اڈے پہنچے تو لیبیا کی فوج کے سینئر عہدے داروں نے ان کا استقبال کیا۔ بعد ازاں حفتر ایک قافلے کی صورت میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کے بیچ المرج شہر میں فوج کے ہیڈ کوارٹر روانہ ہو گئے۔

جنرل خلیفہ حفتر جلد ہی قوم سے خطاب کریں گے۔

بنغازی شہر کی سڑکوں پر بدھ کی رات سے ہی لیبیا کی فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر کی واپسی کا جشن شروع ہو گیا تھا۔ شہر میں حفتر کی حمایت میں بینر آویزاں کیے گئے اور پیرس میں علاج کے بعد صحت مند ہو کر واپسی کی خوشی میں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔

یاد رہے کہ تقریبا ایک برس قبل لیبیا کی فوج نے بنغازی شہر کو دہشت گرد جماعتوں سے آزاد کرا لینے کا اعلان کیا تھا۔ بنغازی شہر سے داعش تنظیم کو نکالنے کے لیے لیبیا کی فوج کا آپریشن مئی 2014ء میں شروع ہوا تھا۔

جمعرات کی شام حفتر کے نمودار ہونے کے بعد اُن کی صحت کے حوالے سے تمام قیاس آرائیاں دور ہو گئی ہیں۔ طبیعت کی خرابی کے باعث تقریبا دو ہفتے تک منظر عام سے غائب رہنے کے سبب بہت سی افواہیں اور تجزیہ سامنے آئے جن میں حفتر کی وفات کا اعلان تک کر دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں