قطر کی طرف سے النصرہ فرنٹ کی معاونت کے ٹھوس ثبوت ہیں: ڈچ قانون دان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ہالینڈ کی ایک خاتون انسانی حقوق کارکن اور عالمی قانون کی ماہر نے کہا ہے کہ قطر پر شام میں النصرہ فرنٹ کی مدد کا الزام محض پروپیگنڈہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے، کیونکہ دوحہ کے النصرہ کی مدد کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امسٹرڈم یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کی پروفیسر لیزبیتھ زخفیلڈ نے قطر کے خلاف دعویٰ دائر کیا ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ دوحہ دہشت گردی کی معاونت کا مرتکب ہے اور اس کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

مسز زخفیلڈ کو ’الشارع الدبلوماسی‘ پروگرام میں شام میں النصرہ فرنٹ کےستم کا شکار رہنے والے ایک شہری ابو رامی کے ساتھ دیکھا گیا۔ اس موقع پر ڈچ انسانی حقوق کارکن نے کہا کہ ہم النصرہ کی مدد کرنے پر قطری حکومت اور اس کے اداروں کے خلاف عدالت میں دعویٰ دائر کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ہالینڈ میں قائم قطری سفارت خانے کے ذریعے امیر قطر کو مکتوب ارسال کرچکی ہیں جن میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ النصرہ کے مظالم کا شکار ہونے والے متاثرین کو ہرجانہ ادا کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ شام میں النصرہ کے ہاتھوں ستم کا شکار ہونے والے بڑی تعداد میں شہری اس وقت فرانس، جرمنی، ہالینڈ اور دوسرے ملکوں میں موجود ہیں۔ انہوں نے ایسے ایک سو سے زائد افراد سے ملاقات بھی کی ہے جنہوں نے بتایا کہ قطری حمایت یافتہ النصرہ فرنٹ کے جنگجوؤں نے ان سے غیرانسانی سلوک کیا تھا۔

شام شہری ابو رامی نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسے دمشق کےقریب سے النصرہ کے جنگجوؤں نے اغواء کرکے ایک حراستی مرکز میں ڈال دیا جہاں اس پر بدترین تشدد کیا گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ جنگجو رہائی کے بدلے میں اس سے تاوان مانگتے رہے۔ تاہم وہ کسی ذریعےسے دہشت گردوں کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں