ایرانی انٹیلی جنس کے لیے سیاست دانوں کو جال میں پھنسانے والی "خطّافات" کے حوالے سے تنازع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران میں اصلاح پسند رہ نما عبداللہ ناصری کی جانب سے ایران عراق جنگ میں ہلاک ہونے والے اہل کاروں کی بیواؤں سے متعلق بیان نے تنازع پیدا کر دیا ہے۔

ناصری نے یہ بیان اصلاح پسندوں کی ویب سائٹ "انصاف نیوز" کو دیا تھا۔ ویب سائٹ نے ہفتے کے روز ایک رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا کہ مذکرہ بیوہ خواتین نے حزب اختلاف کے بہت سے افراد کی سیاسی زندگی ختم کرانے میں ایرانی سکیورٹی اداروں کی مدد کی۔

ناصری کے مطابق سکیورٹی اداروں نے عراق ایران جنگ (1980 - 1988) میں مارے جانے والے افراد کی بعض بیواؤں کو "خطّافات" یعنی "آنکڑا خواتین" کے نام سے منصوبے میں استعمال کیا۔ اس منصوبے کا مقصد مختلف ایرانی حکومتوں کے وزراء اور سینئر عہدے داروں کو جال میں پھانسنا تھا۔

انصاف نیوز کی نامہ نگار معصومہ رشیدیان نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ خطّافات (آنکڑا) وہ نام ہے جو سکیورٹی اداروں کے لیے جاسوسی کے واسطے جنس کو بطور ہتھیار استعمال کرنے والی خواتین کو دیا جاتا ہے"۔

رپورٹ میں مختلف ایرانی حکومتوں میں وزراء اور عہدے داروں کے استعفوں کو خطافات کے ہاتھوں جنسی جال میں پھنس جانے کے ساتھ مربوط کیا۔ اس سلسلے میں محمد خاتمی کے دور میں سابق وزیر ثقافت عطاء الله مہاجرانی اور محمود احمدی نژاد کی حکومت کے کئی وزراء کے علاوہ صدر حسن روحانی کے مقرّب افراد میں شامل تہران کے میئر کا مستعفی ہونا شامل ہے۔

دوسری جانب اصلاح پسند بلاک میں مشاورتی کمیٹی کے رکن ورد ناصری نے انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے "خطافات" کی بھرتی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ عراق کے ساتھ 8 برس تک جاری جنگ نے اپنے پیچھے خواتین کی ایک بڑی تعداد کو چھوڑا جو کم عمری میں ہی اپنے شوہروں کو کھو بیٹھیں۔ اسی وجہ سے ان میں بہت سی خواتین حکومتی یا دیگر عہدے داران کی دوسری بیوی بن گئیں یا پھر غیر سرکاری ازدواجی تعلقات میں مربوط ہو گئیں۔

ناصری نے مزید کہا کہ سکیورٹی اداروں کی جانب سے خواتین کا استعمال کیا جانا دنیا بھر میں ایک معروف طریقہ کار ہے اور ایران بھی اس سے مستثنی نہیں۔

جنگ کے دوران بیوہ ہوجانے والی خواتین کو بطور خطافات استعمال کرنے کے حوالے سے ناصری کے بیان نے سخت گیر میڈیا کو چراغ پا کر دیا۔ اس کے نتیجے میں "انصاف نیوز" نے معذرت پیش کرتے ہوئے رپورٹ سے اس پیراگراف کو حذف کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں