حماس نے فلسطینی وزیراعظم پر قاتلانہ حملے کی کوشش کا الزام فلسطینی انٹیلی جنس پر ڈال دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ پٹی پر کنٹرول رکھنے والی فلسطینی تنظیم حماس نے فلسطینی انٹیلی جنس کو مورد الزام ٹھہرایا ہے کہ اس نے شدت پسند جماعتوں کو وہ دھماکا کرنے پر مجبور کیا جس میں فلسطینی وزیراعظم رامی الحمداللہ کی سواری کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اُس وقت فلسطینی اتھارٹی کا کہنا تھا کہ قاتلانہ حملے کی یہ کوشش حماس تنظیم کی منصوبہ بندی ہے۔

حماس کے مطابق تحقیقات سے ثابت ہو چکا ہے کہ دھماکے کی کارروائی میں ایک شدت پسند جماعت ملوث ہے۔ اس کے سربراہ کا نام احمد فوزی سعيد صوافطہ ہے جو ابو حمزہ الانصاری کی عُرفیت سے جانا جاتا ہے۔

حماس کا کہنا ہے کہ اس شدت پسند جماعت کو رام اللہ میں جنرل انٹیلی جنس ادارے کی جانب سے پشت پناہی حاصل ہے۔ حماس کے مطابق یہ جماعت غزہ اور سیناء میں دہشت گرد حملوں کی ذمّے دار ہے اور وہ غزہ کا دورہ کرنے والی بین الاقوامی شخصیات، مصری سکیورٹی وفد اور حماس تنظیم کے اہم رہ نماؤں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی بھی کر رہی تھی۔

دوسری جانب فلسطینی حکومت نے ایک بیان میں حماس کے اس موقف کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک بار پھر قاتلانہ حملے کا ذمّے دار ٹھہرایا ہے۔ حکومت نے حماس کی جانب سے فلسطینی عوام اور اداروں کو سیناء میں دہشت گرد گروپوں کے ساتھ نتھی کرنے کی کوشش پر افسوس کا اظہار کیا۔

غزہ اور رام اللہ کے درمیان ایک بار پھر الزامات کے تبادلے کے ساتھ ہی فریقین کے بیچ اختلافات نے سر اٹھا لیا ہے جو قاہرہ کے زیر قیادت مصالحتی کوششوں کے لیے ایک دھچکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں