حوثیوں کے سربراہ نے "خُمُس" کی زکوۃ لاگو کرنے کی نوید سنا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حوثی ملیشیا کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے انکشاف کیا ہے کہ یمنی عوام پر سرکاری طور پر "خُمُس" (پانچواں حصّہ) کی زکوۃ نافذ کرنے سے متعلق متنازع قانون کی جلد منظوری کے لیے کام ہو رہا ہے۔

ہفتے کی شام ٹیلی وژن پر ایک طویل خطاب میں الحوثی نے صنعاء میں اپنے زیر کنٹرول پارلیمنت سے مطالبہ کیا کہ وہ رمضان سے قبل زکوۃ کے قانون میں ترمیم کا بل منظور کر لیں۔

ایسا نظر آ رہا ہے کہ نیا قانون حوثی ملیشیا کو "خُمُس" کے نام سے یمن کی تمام بحری اور زمینی ثروت اور یمنی عوام سے حاصل زکوۃ کی آمدن میں لُوٹ مار کا مزید موقع فراہم کرے گا۔

اس کے علاوہ الحوثی نے لڑائی کے محاذوں کے لیے بھرتیوں پر توجہ مرکوز کرنے کا مطالبہ کیا۔ یمنی باغیوں کو افرادی قوت کے حوالے سے شدید قلت کا سامنا ہے۔ اپنی صفوں میں مزید جنگجوؤں کو شامل کرنے کے لیے حوثیوں کی جانب سے تمام پُر کشش پتّے ختم ہو چکے ہیں۔

عبدالملک الحوثی نے تاجروں اور صاحب مال افراد پر زور دیا کہ وہ جنگجوؤں کے خاندانوں کی مالی امداد پر خصوصی توجہ دیں۔ اس نے عندیہ ظاہر کیا کہ حوثی ملیشیا تاجروں اور کاروباری حضرات پر مزید ٹیکسوں کو عائد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس بلیک میلنگ پر بہت سے لوگ پہلے ہی اپنے کاروبار اور تجارت کے سلسلے کو ختم کر چکے ہیں۔

حوثیوں کے سربراہ نے باغیوں کی سپریم سیاسی کونسل کے مقتول سربراہ صالح الصماد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ الصماد کی ہلاکت میں شریک ہے۔

عبدالملک الحوثی نے اپنے دفتر کے سربراہ اور داماد مہدی المشاط کو صالح الصماد کی جگہ مقرر کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "کوئی یہ سوچے بھی نہیں کہ ہم نے کسی ادارے پر دباؤ ڈالا اور اس کو ڈکٹیشن دیا"۔ الحوثی نے دعوی کیا کہ المشاط کا انتخاب سپریم سیاسی کونسل ، قومی دفاع اور بعض دیگر شخصیات کی جانب سے عمل میں آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں