.

ایران کے خفیہ جوہری پروگرام سے متعلق نئے ’’ثبوت‘‘ فراہم ہوئے ہیں : نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں ایران کے خفیہ جوہری پروگرام کے بارے میں نئے ’’ثبوت‘‘ ملے ہیں ۔

اسرائیلی وزیراعظم نے ٹیلی ویژن پر سوموار کے روز ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں ویڈیو اور سلائیڈز کی مدد سے ایک پریزینٹیشن دی ہے اور اس میں ایران کی اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں فراہم کردہ دستاویزات کا تیا پانچا کیا ہے۔انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ’’اسرائیل نے چند ہفتے قبل ہزاروں فائلیں حاصل کی ہیں اور سراغرسانی کے میدان میں یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے‘‘۔

نیتن یاہو نے کہا:’’ آج ہم ایران کے خفیہ جوہری پروگرام کے بارے میں نئے اور مشمولہ ثبوت کا انکشاف کر رہے ہیں ۔اس کو ایران نے اپنے خفیہ جوہری آرکائیو میں عالمی برادری سے برسوں سے بچا کر رکھا ہوا تھا مگر اب ہم آپ کو ایران کی خفیہ فائلیں دکھانے جارہے ہیں‘‘۔

انھوں نے الزام عاید کیا کہ ایران کے لیڈ ر اپنی جوہری خواہشات کے بارے میں بار بار جھوٹ بولتے رہے ہیں ۔نیتن یا ہو نے دعویٰ کیا کہ 2015ء میں ایران سے جوہری سمجھوتا بھی اس کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے میں ناکام رہا ہے۔ اس سمجھوتے کے تحت مغرب کی عاید کردہ پابندیوں کے خاتمے سے ایران کی دراصل مشرق ِاوسط میں اپنے گماشتہ جنگجوؤں کو رقوم مہیا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوچکا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کے میزائل پروگرام پر بھی پابندیاں عاید کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ بنیامین نیتن یاہو نے جولائی 2015ء میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد طے شدہ جوہری سمجھوتے کو ایک بڑی تاریخی غلط قرار دیا تھا اور وہ تب سے اس میں ترامیم یا پھر اس کو سرے سے ختم کرنے کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں ۔

اسرائیل کے اتحادی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہونے کی ایک سے زاید مرتبہ دھمکی دے چکے ہیں۔ان کے پاس اس سمجھوتے کو برقرار ر کھنے یا اس کو خیرباد کہنے کے لیے 12 مئی تک کا وقت ہے۔ امریکی صدر اس کو ایک پاگل پن بھی قرار دے چکے ہیں کیونکہ اس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر عاید کردہ قدغنوں کی مدت دس سال کے لیے تھی اور یہ 2025ء میں ختم ہوجائے گی۔

تاہم باقی عالمی طاقتوں کا کہنا ہے کہ یہ سمجھوتا فی الوقت کام کررہا ہے اور ایران کو جوہری بم کی تیاری سے روکنے کا یہی ایک بہترین طریقہ ہوسکتا تھا۔