.

اسرائیلی دستاویزات ایران کے جوہری معاہدے کو باقی رکھنے کی اہمیت ظاہر کرتی ہیں : فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے پیش کی جانے والی معلومات ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ باقی رکھنے کی اہمیت کو نمایاں کر رہی ہیں۔ تاہم وزارت کا کہنا ہے کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی جانب سے ایران میں معائنے کی کارروائیاں جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

منگل کے روز جاری بیان میں فرانس کی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کی جانب سے نئی معلومات اس امر کی ضرورت کو باور کراتی ہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے طویل المیعاد ضمانتوں کو یقینی بنایا جائے۔

بیان کے مطابق اسرائیل کی جانب سے پیش کی جانے والی انٹیلی جنس معلومات نے غیر شہری پروگرام کی نوعیت کی تصدیق کی ہے جس کے بارے میں یورپی طاقتوں نے 2002ء میں انکشاف کیا تھا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے پیر کے روز ٹیلی ویژن پر ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں ویڈیو اور سلائیڈز کی مدد سے ایک پریزینٹیشن دی جس میں ایران کی اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں فراہم کردہ دستاویزات کا تیا پانچا کیا گیا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’’اسرائیل نے چند ہفتے قبل ہزاروں فائلیں حاصل کی ہیں اور سراغ رسانی کے میدان میں یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے‘‘۔

نیتن یاہو نے کہا:’’ آج ہم ایران کے خفیہ جوہری پروگرام کے بارے میں نئے اور مشمولہ ثبوت کا انکشاف کر رہے ہیں ۔اس کو ایران نے اپنے خفیہ جوہری آرکائیو میں عالمی برادری سے برسوں سے بچا کر رکھا ہوا تھا مگر اب ہم آپ کو ایران کی خفیہ فائلیں دکھانے جارہے ہیں‘‘۔

انھوں نے الزام عاید کیا کہ ایران کے لیڈ ر اپنی جوہری خواہشات کے بارے میں بار بار جھوٹ بولتے رہے ہیں۔ نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ 2015ء میں ایران سے جوہری سمجھوتا بھی اس کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے میں ناکام رہا ہے۔ اس سمجھوتے کے تحت مغرب کی عاید کردہ پابندیوں کے خاتمے سے ایران کی دراصل مشرقِ وسطی میں اپنے گماشتہ جنگجوؤں کو رقوم مہیا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوچکا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے دعوی کیا کہ انہوں نے ایران کی جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے ایک لاکھ سے زیادہ دستاویزات حاصل کی ہیں۔