.

امریکی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز کی داعش سے دیرالزور میں دوبارہ معرکہ آرائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف ) نے عراق کی سرحد کے نزدیک ملک کے مشرقی صوبے دیر الزور میں داعش کے زیر قبضہ باقی رہ جانے والے علاقے کو واگزار کرانے کے لیے نئی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔

کرد اور عرب ملیشیاؤں پر مشتمل شامی جمہوری فورسز نے جنوری میں شمال مغربی قصبے عفرین میں اپنے خلاف ترک فوج کے حملے کے بعد مشرقی محاذ پر پیش قدمی روک دی تھی اور وہاں سے سیکڑوں جنگجو کو عفرین کے دفاع کے لیے طلب کر لیا تھا۔

ایس ڈی ایف کی خاتون ترجمان لیلوا العبداللہ نے دیرالزور میں داعش کے خلاف نئی کارروائی کے حوالے سے کہا ہےکہ ’’ ہم نے نئے سرے سے اپنی صف بندی کی ہے‘‘۔

انھوں نے دریائے فرات کے مشرقی کنارے میں واقع ایک آئیل فیلڈ پر نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ’’ داعش کے جنگجوؤں نے حالیہ ہفتوں کے دوران میں دوبارہ منظم ہونے کی کوشش میں حملے تیز کر رکھے ہیں۔ہماری دلیر فورسز ان علاقوں کو آزاد کرا لیں گی اور سرحد کو محفوظ بنا لیں گی۔ہم اس ضمن میں عراقی فورسز کی حمایت کا خیرمقدم کرتے ہیں ‘‘۔

ایس ڈی ایف کے تحت لڑنے والی دیر الزور کی فوجی کونسل کے ایک کمانڈر احمد ابو خولہ نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے ’’وہ بغداد حکومت اور عراقی فوج کے ساتھ مل کر داعش کے جنگجوؤں کو شکست سے دوچار کرنے کے لیے ایک مشترکہ آپریشنز روم کے ذریعے کام کررہے ہیں ‘‘۔

انھوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ داعش کے خلاف مشترکہ کوششیں تو کی جارہی ہیں لیکن طرفین میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کی سرحد عبور نہیں کرے گا۔

کرد ملیشیا کے زیر قیادت عرب اور کرد جنگجوؤں نے گذشتہ سال امریکا کی فضائی مدد سے صوبے دیر الزور میں دریائے فرات کے مشرق میں واقع بہت سے علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور داعش کے جنگجوؤں کو شکست فاش سے دوچار کیا تھا۔تاہم عراق کی سرحد کے نزدیک واقع صحرا میں بعض علاقوں اب بھی داعش کا کنٹرول ہے۔