.

جوہری پروگرام سے متعلق الزامات لگانے والا جھوٹ کا رسیا ہے : ایران کا نیتن یاہو کو جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزارت خارجہ نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی جانب سے پیر کے روز ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک ایسے شخص کا فعل ہے "جو جھوٹ کا رسیا اور فکری دیوالیے پن کا شکار ہے"۔

وزارت خارجہ نے منگل کے روز اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں اسرائیلی ویزاعظم کے انکشافات کے حوالے سے کہا کہ " یہ بے ہودہ اور غیر سنجیدہ بیان ایسی صہیونی قیادت کی جانب سے سامنے آیا ہے جن کے نزدیک اپنے غیر قانونی وجود کی بقاء کا واحد راستہ یہ ہے کہ دھوکے کا استعمال کرتے ہوئے دوسروں کو دھمکایا جائے"۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "بدنام زمانہ اور بچوں کے قاتل نیتن یاہو اور صہیونی نظام کو سمجھ لینا چاہیے کہ عالمی رائے عامہ تعلیم یافتہ ہے اور اس حد تک دانش مند ہے کہ اس نوعیت کے بیانات کو سچ تسلیم نہ کرے"۔

ایرانی وزیر خارجہ نے پیر کی شب اپنی ٹوئیٹ میں نیتین یاہو کے بیان کو "جھوٹا پروپیگنڈہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ "یہ بچّہ جھوٹ بولنے سے نہیں رک سکتا"۔

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے پیر کی شام اسرائیلی چینلوں کے سامنے دی گئی ایک پریزنٹیشن میں اعلان کیا تھا کہ اسرائیل کے پاس ایسے قطعی ثبوت موجود ہیں جو ایران کے ایسے خفیہ منصوبے کا پتہ دیتے ہیں جس کو ایٹم بم کے حصول کے لیے کسی بھی وقت فعّال بنایا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں (چین، امریکا، فرانس، برطانیہ، روس اور جرمنی) کے درمیان طے پائے جانے والے جوہری معاہدے کا مقصد تہران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کے بتدریج اٹھائے جانے کے مقابل ایرانی جوہری پروگرام پر روک لگانا ہے۔