.

دمشق : ایرانی پارلیمنٹ میں یہودیوں کی نمائندگی کرنے والے رکن کی بشار الاسد سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کی کمیٹی کے سربراہ علاء الدین بروجردی کے زیر قیادت ایک وفد نے پیر کے روز دمشق میں شامی صدر بشار الاسد، شامی وزیراعظم اور پارلیمنٹ کے اسپیکر سے ملاقات کی۔ اس موقع پر شامی حکومت کے زیر انتظام میڈیا نے ایرانی وفد میں شامل بعض ارکان کی شناخت ظاہر کرنے سے گریز کیا۔ مذکورہ ذرائع ابلاغ نے بشار الاسد سے ملاقات کرنے والے ایرانی وفد میں شامل ارکان کے صرف نام ذکر کرنے پر اکتفا کیا۔ اس دوران یہ نہیں بتایا گیا کہ وفد میں ایرانی پارلیمنٹ میں یہودیوں کی نمائندگی کرنے والا رکن "سيامک مرہ صدق" بھی شامل ہے۔

دوسری جانب شامی پارلیمنٹ کے ایک رکن نبیل صالح نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر بتایا کہ ایران میں "مذہبی رواداری" سامنے آ رہی ہے اور اس حوالے سے بروجردی اپنے ہمراہ وفد میں یہودی فرقے اور آرمینیائی فرقے کے ترجمان کو ساتھ لے کر دمشق آئے۔

سال 2013ء میں برطانوی اخبار "گارڈیئن" نے بتایا تھا کہ ایرانی صدر حسن روحانی ایرانی پارلیمنٹ میں یہودیوں کی نمائندگی کرنے والے رکن سیامک مرہ صدق کو ساتھ لے کر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک آئے تھے۔ اخبار کا تبصرہ تھا کہ ایرانی صدر کے دورے کا ایک لطیفہ یہ بھی ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ کے اکلوتے یہودی رکن حسن روحانی کے ہمراہ ہیں۔

اصلاح پسندوں کی مقرّب ویب سائٹ "خرداد" کے مطابق یہودی رکن پارلیمنٹ کو ایرانی صدر کے ہمراہ وفد میں شامل کرنے کا مقصد عالمی برادری کے سامنے ایران کی تصویر بہتر بنانا تھا۔

یہ پیش رفت ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب ایک طرف امریکا تہران کے ساتھ جوہری معاہدے کو منسوخ کرنے کی دھمکی دے رہا ہے اور دوسری طرف شام کی سرزمین پر اسرائیل اور ایران کے درمیان عسکری تصادم کے امکان کا منظرنامہ سامنے آ رہا ہے۔