.

لیبیا : بنغازی کی دہشت گرد تنظیم "مجلس شوری" کے سربراہ کی زندگی کا اختتام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں دہشت گرد تنظیم "مجلس شوری برائے انقلابیان بنغازی" کے کمانڈر وسام بن حمید کے اہل خانہ نے پیر کے روز باقاعدہ طور پر اپنے فرزند کی ہلاکت کا اعلان کر دیا۔ وسام ایک برس قبل لیبیا کی فوج کے ایک فضائی حملے میں نشانہ بننے کے بعد سے منظرعام سے غائب تھا۔

وسام کی ہلاکت کا اعلان اس کے اہل خانہ نے ترکی میں ایک پریس کانفرنس میں کیا تاہم ہلاکت کی تاریخ اور مقام کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔

اس سے قبل 6 جنوری 2017ء کو لیبیا کی مسلح افواج کے کمانڈر احمد المسماری نے اعلان کیا تھا کہ بنغازی شہر کے مغرب میں ایک فضائی حملے کے دوران وسام بن حمید ہلاک ہو گیا۔ تاہم "مجلس شوری برائے انقلابیان بنغازی" نے اُس وقت سوشل میڈیا پر اعلان کیا تھا کہ وسام ابھی تک زندہ ہے اور اسے صرف گردن میں زخما آئے ہیں۔

وسام کو " مجلس شوری برائے انقلابیان بنغازی" کے نام سے لڑائی میں شریک مسلح گروپوں کا ایک اہم ترین کمانڈر شمار کیا جاتا تھا۔ اس نے 2014ء میں مذکورہ مجلس شوری کے امیر کی بیعت کا اعلان کیا تھا۔

وسام بن حمید بنغازی یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد الکٹرونک آلات ٹھیک کرنے کا ایک ورکشاپ چلانے لگا۔ وہ 2011ء میں قذافی حکومت کے خلاف انقلابی تحریک کا ایک اہم رکن بن کر ابھرا۔ بعد ازاں وہ بنغازی شہر میں الاخوان المسلمین تنظیم کے ہمنوا اہم ترین بریگیڈ "دروع لیبیا" کے کمانڈر کے طور پر سامنے آیا۔

وسام بن حمید اور سیکڑوں مسلح نوجوانوں پر مشتمل اس کی جماعت نے عبوری کونسل کے سربراہ مصطفی عبدالجلیل کو مظاہرین کے چنگل سے بچایا جو اُن پر حملے کا ارادہ رکھتے تھے۔

وسام نے 8 جون 2013ء کو بنغازی میں مظاہرین کے خلاف خونی قتل عام کی بھی قیادت کی۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ شہر سے مسلح ملیشیاؤں کو باہر نکالا جائے۔ اس دوران مظاہرین پر فائرنگ کے نتیجے میں بودزیرہ کے علاقے میں 31 افراد جاں بحق ہو گئے۔ جس دن یہ واقعہ پیش آیا اسے "Black Satruday" کا نام دیا گیا۔

سال 2014ء میں لیبیا کی فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر کی جانب سے دہشت گرد جماعتوں کے خلاف "الکرامہ آپریشن" کے آغاز کا اعلان کیا گیا تو وسام بن حمید اس کے نمایاں ترین مخالفین میں سے تھا۔ اس نے آپریشن کے خلاف اپنے مسلح گروپ کی قیادت کی۔ بعد ازاں وہ دہشت گرد تنظیم انصار الشریعہ میں شامل ہو گیا۔