.

قطر اپنی معیشت بچانے کے واسطے ایرانی اور عراقی کمپنیوں کو کشش دلانے کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کی جانب سے اعلانیہ اور سرکاری طور پر یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ ایران، عراق اور ترکی کے ساتھ اس کے "گہرے تعلقات" ہیں۔ دوحہ کا موقف ہے کہ وہ ان تعلقات کو قطر میں ایسی غیر ملکی کمپنیاں لانے کے واسطے استعمال کرے گا جو سرمایہ کاری کی تلاش میں ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قطر کی معیشت گزشتہ سال شروع ہونے والے چار عرب ممالک کے بائیکاٹ کے نتیجے میں سنگین صورت حال سے دوچار ہے۔

قطر مالیاتی مرکز کے چیف ایگزیکٹو یوسف الجیدہ نے بلومبرگ ٹیلی وژن کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ لوجسٹک خدمات، سیاسی حلیفوں اور ٹیکس کسے متعلق معاہدوں کی بدولت قطر اب ایران، ترکی، عراق، سلطنت عُمان، کویت اور پاکستان کی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک پُر کشش مرکز بن گیا ہے۔ الجیدہ کا کہنا ہے کہ قطر مالیاتی مرکز اور قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی نئے شراکت داروں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی اور انہیں بائیکاٹ کے بعد قطر میں اقتصادی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے مواقع سے آگاہ کیا۔ الجیدہ کے مطابق قطر مالیاتی مرکز کی اس بات پر توجہ مرکوز ہے کہ مقامی سیکٹر کو ترقی دے کر علاقائی مالیاتی مرکز بنا دیا جائے۔

سعودی عرب، امارات، بحرین اور مصر نے قطر کے دہشت گرد گروپوں کی سپورٹ میں ملوث ہونے اور یمن میں حوثیوں کو سپورٹ کرنے والے ایران کے ساتھ خصوصی تعلقات رکھنے کے سبب گزشتہ برس جون میں دوحہ کے ساتھ تمام اقتصادی اور سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

قطر ماضی میں کئی مرتبہ اس امر کی تردید کر چکا ہے کہ اس کے ایران کے ساتھ تعاون کے سلسلے میں تعلقات ہیں۔ تاہم اب یوسف الجیدہ کا بیان اس نوعیت کے تعلقات کی موجودگی کا براہ راست اعتراف ہے۔ یہ بیان اس بات کی بھی تصدیق کرتا ہے کہ دوحہ نے سرمایہ کاری کے میدان میں ایرانی کمپنیوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں۔