.

تیونس کا حماس کے مقتول ڈرون انجینیرکے قاتلوں کی شناخت کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی ملک تیونس کی عدلیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سنہ 2016ء میں صفاقس شہر میں قتل ہونے والے سابق فلائیٹ انجینیر اور فلسطینی تنظیم حماس کے رکن محمد الزاوری کے دونوں قاتلوں کی شناخت کرلی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تیونس کے عدالتی ترجمان سفیان السلیطی نے بتایا کہ گذشتہ برس تیونس میں مبینہ طورپر اسرائیلی خفیہ ادارے ’موساد‘ کے حملے میں مارے جانے والے فلائیٹ انجینیر محمد الزواری کا ایک قاتل کروشیا میں گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتارشخص کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ تاہم اسے 13 مارچ 2017ء کو گرفتار کیا گیا تھا۔ دوسرے ملزم کی شناخت بھی کرلی گئی ہے۔ دونوں کا تعلق بوسنیا سے تبایا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ کے فلائیٹ انجینیر محمد الزواری کو 15 دسمبر2016ء کو تیونس کے شہر السفاقس میں نامعلوم افراد نے گولیاں مار کرقتل کردیا تھا۔ تیونس کی پولیس کی نے تحقیقات کے بعد الزام عاید کیا تھا کہ اس مجرمانہ قتل میں اسرائیل ملوث ہے تاہم ملزمان فرار ہوگئے تھے۔

تیونس کے انسداد دہشت گردی شعبے کے ترجمان سفیان السلیطی نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے فلائیٹ انجینیر محمد الزواری کے قاتلوں کی شناخت کرلی ہے، ان میں سے ایک کو جسے کروشیا میں گرفتار کیا گیا ہے۔

ان کاکہنا تھا کہ تین اکتوبر سے 10 نومبر 2017ء کے دوران عدالت نے مصر، لبنان، کیوبا، ترکی، بیلجیم ، سویڈن اور بوسنیا کو مشتبہ قاتلوں کے بارے میں معلومات فراہم کی تھیں تاکہ ان ملکوں میں موجودگی کی صورت میں ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ بوسنیا کا قانون اپنے شہریوں کو کسی دوسرے ملک کے حوالے کرنے کی اجازت نہین دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ بوسنیا کے حکام نے ملزم کو تیونس کے حوالے کرنے سے انکار کردیا ہے۔

17 دسمبر 2016ء کو اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے الزام عاید کیا تھا محمد الزواری جماعت کے عسکری شعبے عزالدین القسام بریگیڈ سے وابستہ تھے اور انہوں نے حماس کے لیے ڈرون طیارے بھی تیار کیے تھے۔ ان کے تیار کردہ ڈرون طیارے کو ’ابابیل 1‘ کا نام دیا گیا تھا۔ وہ سنہ 2006ء سے حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ سے وابستہ تھے۔