لبنانی پارلیمنٹ میں حزب اللہ کی زیادہ نشستوں کا مطلب امریکا کی اضافی پابندیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

ایسے وقت میں جب لبنان میں پارلیمانی انتخابات سر پر کھڑے ہیں، امریکی انتظامیہ مشرق وسطی کے اس چھوٹے سے ملک کے حوالے سے اپنی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ یہ پالیسی لبانی ریاست کے قانونی اداروں بالخصوص لبنانی فوج کی سپورٹ پر مبنی ہے۔ واشنگٹن لبنانی فوج کو انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں شراکت دار شمار کرتا ہے۔ امریکی اور لبنانی افواج کے درمیان تعاون کا سلسلہ 2006ء سے شروع ہوا تھا۔

امریکی حکومت کے نزدیک لبنان کا بینکنگ سیکٹر بھی استحکام برقرار رکھنے میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے اور اس کی جانب سے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے سلسلے میں تعاون سامنے آیا ہے۔ اس میں حزب اللہ اور دنیا بھر میں اس کے ذیلی گروپوں کی منی لانڈرنگ شامل ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سات اپریل کو اپنے ایک بیان میں یہ کہہ چکے ہیں کہ لبنان کے آئندہ انتخابات "تاریخی" ہوں گے۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران لبنانی انتخابات کے نامزد امیدواروں میں شامل اُن سیاسی شخصیات نے واشنگٹن کے دورے کیے جو حزب اللہ اور لبنان میں ایرانی اثر و رسوخ کے معاندین کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ تاہم امریکی حکومت کے نمائندوں نے ان شخصیات کے ساتھ سپورٹ کا نہیں بلکہ محض موقف سننے کا معاملہ کیا۔

گزشتہ چند روز میں امریکی انتظامیہ نے لبنان کے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کے حوالے سے دو امکانات اخذ کیے ہیں۔ پہلا امکان یہ کہ حزب اللہ تنظیم پارلیمنٹ میں اپنی حالیہ 13 نشستوں کو برقرار رکھے گی اور اسی طرح "امل" تحریک بھی موجودہ پوزیشن پر ہی رہے گی۔ البتہ شامی اور ایرانی حکومتوں کے ہمنواؤں کی نشستوں کا حجم 6 سے دُگنا ہو کر 12 ہو جائے گا۔ اس طرح حزب اللہ اور اس کے حلیفوں کے بلاک کو زیادہ سے زیادہ 38 نشستیں حاصل ہو جائیں گی۔

امریکیوں کو اس منظرنامے میں کوئی خطرے کی گھنٹی بجتی دکھائی نہیں دے رہی۔ لہذا واشنگٹن کے نزدیک کچھ کرنے میں جلدی دکھانے کی ضرورت نہیں بلکہ گزشتہ برسوں کی طرح کھیل کا جائزہ لینا چاہیے۔ امریکیوں کی جانب سے وزیراعظم سعد حریری اور صدر میشیل عون کے اقدامات پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ دونوں شخصیات لبنانی سیاست کے میدان کے بیچ موجود ہیں۔ حریری صدر عون کو حزب اللہ سے دُور کرنے کے مشن پر کاربند رہے ہیں اور ممکنہ طور پر اقدامات کو یقینی بنا رہے ہیں خواہ ان کی رفتار سست ہو۔

نتائج کا دوسرا منظرنامہ اس جانب اشارہ کر رہا ہے کہ حزب اللہ پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کر لے گی اور لبنان حزب اللہ اور ایران کے ہاتھوں میں چلا جائے گا۔

امریکیوں کی جانب سے اس بات کو ترجیح دی جا رہی ہے کہ انتظار کی پالیسی اپنائی جائے اور نتائج آنے کے بعد مناسب اقدامات کیے جائیں۔

مذکورہ صورت حال میں حزب اللہ کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکیوں کے تُرکش میں بہت سے تیر ہیں۔ ان میں پہلا اور شاید اہم ترین حزب اللہ کی فنڈنگ کا مقابلہ کرنے سے متعلق قانون کا نیا ورژن ہے۔ امریکی ارکان پارلیمنٹ نے اس قانون کے مسودے کو گزشتہ برس منظور کیا تھا۔ تاہم سینیٹ نے اس پر رائے شماری نہیں کی اور یہ امریکی صدر کے دفتر تک نہیں پہنچا۔

تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ کے اہل کاروں بالخصوص وزارت خارجہ کی ٹیموں کے نزدیک یہ قانون ابھی غیر ضروری ہے۔ لہذا انہوں نے کانگریس کے ارکان سے رائے شماری ملتوی کرنے پر بات کی اور انہیں قائل کرنے میں کامیاب رہیں۔

لبنان کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کے اندر کسی حد تک اختلاف پایا جاتا ہے۔ وزارت خارجہ اور وزارت دفاع میں مستقل اہل کاروں کا موقف ہے کہ لبنانی حلیفوں کے ساتھ تعاون اور چھوٹے پیمانے پر اقدامات کا نتیجہ ہر چند آئے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر کے مقرّب اہل کار جو اُن کے انتخاب کے بعد انتظامیہ میں شامل ہوئے، ان کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کا مقابلہ کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔ تاہم ساتھ ہی وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ لبنان کا موضوع زیادہ بڑے یعنی ایران کے معاملے کے ساتھ "جُڑا ہوا" ہے۔ امریکی صدر کے ان مقرّبین کے نزدیک جان بولٹن کی قومی سلامتی کونسل میں اور مائیک پومپیو کی وزارت خارجہ میں آمد ایک سرگرم پالیسی سامنے لائے گی۔ تاہم 12 مئی کے بعد کے مرحلے کا انتظار کرنا ہو گا جب امریکی صدر ایرانی جوہری معاہدے کے حوالے سے آئندہ اقدام کا فیصلہ کر چکے ہوں گے۔

البتہ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ لبنان بذات خود اہمیت نہیں رکھتا بلکہ امریکیوں کی جانب سے اسے متعدد پہلوؤں سے دیکھا جاتا ہے۔ ان میں اسرائیل کا امن، حزب اللہ کا اسرائیل کے لیے خطرہ ہونا، شامی بحران اور حزب اللہ کا بشار حکومت کو سپورٹ کرنا اور ایران کا علاقائی امن کے لیے خطرہ ہونا شامل ہے۔ ایران حزب اللہ کو اپنے دست راست کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ حزب اللہ ملیشیا شام، عراق اور یمن میں موجود ہے اور عرب ممالک میں دہشت گرد گروپوں میں بھی سرائیت کر چکی ہے۔ واشنگٹن میں "لبنان کے مسئلے" کا دفاع کرنے والوں کے لیے تشویش کی بات یہ ہے کہ امریکی صدر شام سے انخلاء کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ لہذا لبنان میں ایک مؤثر امریکی پالیسی وضع کرنا بہت دشوار ہو گا جب کہ امریکی میدان چھوڑ کر جا چکے ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں