یمن: تزویراتی ٹھکانے آزاد ، سرکاری فوج کی "تعز کے مرکزی راستے" کی جانب پیش قدمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں آئینی حکومت کی فورسز کی جانب سے جمعرات کے روز کیے جانے والے ایک اعلان کے مطابق تعز صوبے کے مغرب میں البرح کے علاقے کی سمت کئی نئے اور تزویراتی ٹھکانوں کو آزاد کرا لیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت اس فوجی آپریشن کے دوران سامنے آئی ہے جو تعز شہر کے اطراف حوثی ملیشیا کا محاصرہ توڑنے اور الحدیدہ کی جانب پیش قدمی کو یقینی بنانے کے سلسلے میں جاری ہے۔

اس آپریشن میں ریپبلکن گارڈز کے بریگیڈز شریک ہیں جن کی قیادت سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کے بھتیجے میجر جنرل طارق محمد صالح کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے علاوہ یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے لڑاکا طیاروں کی بھرپور فضائی معاونت حاصل ہے۔

زمینی ذرائع کے مطابق یمنی فوج باغی حوثی ملیشیا کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد السود، الخزان الابیض اور الشبکہ کے علاقوں کو آزاد کرانے میں کامیاب ہو گئی۔ اس دوران حوثی ملیشیا کو مختلف جھڑپوں میں بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔

یمنی فوج کے مطابق البرح کا علاقہ مغربی محور سے تعز شہر کی سمت عسکری آپریشن کے لیے مرکزی دروازے کی حیثیت رکھتا ہے۔ البرح کے آزاد کرانے سے حوثیوں کی البرح اور مقبنہ ضلعے کے مرکز کے بیچ کمک کی سپلائی لائن کٹ جائے گی۔

البرح کی آزادی سے تعز شہر پر مغربی جانب سے عائد حوثی محاصرہ بھی ختم ہو جائے گا۔ اس طرح تعز صوبے کے بقیہ شہروں کو آزاد کرانے کا عمل تیزی سے انجام پائے گا اور الحدیدہ صوبے کے بقیہ ضلعوں اور اس کی تزویراتی بندرگاہ کی جانب پیش قدمی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں