یمن: حوثیوں کی جانب سے مغویوں کی رہائی کے لیے تاوان کی وصولی عروج پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

صنعاء میں پانچ ماہ قبل یمنی باغیوں کے ہاتھوں بنا کسی وجہ کے اغوا ہونے والے 25 سالہ نوجوان کا باپ ابو عبداللہ (فرضی نام) جب اپنے بیٹے کی تلاش کے دوران ایک حوثی نگراں سے ملا تو اُس نے یہ جواب دیا "یا تو اپنے ساتھ دس لاکھ یمنی ریال لے کر آؤ تا کہ تمہارے بیٹے کو رہا کر دیں اور یا پھر ہم تمہیں بھی اسی کے پاس بھیج دیں گے"۔

یہ اُن ہزاروں مغویوں میں سے ایک شہری کی کہانی ہے جو باغیوں کی جیلوں اور حراستی مراکز میں بنا کسی الزام کے پڑے سڑ رہے ہیں۔ حوثیوں نے اغوا کی کارروائیوں کو ایک کاروبار اور مال بنانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔

حوثی باغی اپنی سرکاری اور غیر سرکاری جیلوں میں یرغمال افراد کی رہائی کے لیے دس لاکھ سے بیس لاکھ ریال یا اس سے زیادہ کی رقم بطور تاوان طلب کرتے ہیں۔ رقم کا تعّین مغوی شخص کے اہل خانہ کے لحاظ سے کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے عائد کیے جانے والے تیّار الزامات میں بیرونی طاقتوں کے لیے مخبری، داعش سے تعلق ہونا اور اتحادی طیاروں کے ساتھ رابطہ کاری شامل ہے۔ عموما حوثی ملیشیا زیر حراست افراد کو بدترین اور وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناتی ہے جس پر یہ لوگ ان الزامات کے اعتراف پر دستخط کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

رواں برس جنوری میں یمن میں اقوام متحدہ کے ماہرین کی ٹیم کی جانب سے پیش کردہ حتمی رپورٹ میں باور کرایا گیا ہے کہ حوثی باغی اب لوگوں کو حراست میں لے کر مال کما رہے ہیں۔ مذکورہ ٹیم کے علم میں یہ بات آئی کہ ایک زیر حراست شخص کے اہل خانہ نے صنعاء میں سیاسی سکیورٹی ادارے کے ذمے داران کو دس لاکھ ریال کی ادائیگی کی جس کے بعد مذکورہ مغوی کو رہا کیا گیا۔

یمن کی وزارت انسانی حقوق کے سکریٹری ماجد فضائل کے مطابق حوثی ملیشیا مغوی افراد کے گھر والوں کو بلیک میل کر کے ان سے رہائی کے لیے بیس لاکھ ریال تک کی رقم طلب کرتی ہے۔ فضائل کا کہنا ہے کہ یمن میں آئینی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے حوثی باغی اب تک 17800 افراد کو اغوا کر چکے ہیں۔ ان میں 7 ہزار افراد مغوی ابھی تک باغیوں کی جیلوں میں ہیں۔

دوسری جانب قانونی ماہر فہد عبدالحمید کا کہنا ہے کہ یہ کارروئیاں انسانیت کے خلاف جرائم کی حد تک پہنچ چکی ہیں اور ان کے مرتکب عناصر سزا سے نہیں بچ سکتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدلیہ سمیت ریاستی اداروں پر حوثیوں کا قبضہ انہیں موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ گرفتار شدگان اور ان کے اہل خانہ کو بلیک میل کریں اور قانون سے ماورا تمام کارروائیاں عمل میں لائیں۔

یمنی مبصرین اس معاملے پر انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے گروپوں اور بین الاقوامی تنظیموں کی خاموشی پر حیران ہیں۔ مبصرین نے ان تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حوثیوں کی جانب سے انسانی اقدار اور بین الاقوامی قوانین کے منافی کارستانیوں پر روک لگانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں