’شراب نوش‘ مجھے ووٹ دیں‘ ۔۔۔ عراقی امیدوار کا انوکھا انتخابی نعرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کسی بھی ملک میں انتخابات کا موسم آتے ہی امیدواروں کی طرف سے ووٹروں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے طرح طرح کے نعروں پرمبنی مہمات چلائی جاتی ہیں۔ ان میں بعض نعرے اور مہمات مضحکہ خیز حد تک مذاق بھی بن جاتے ہیں اور بعض نعروں کو سننے والے ششدر رہ جاتے ہیں۔

عراق میں 12 مئی کو پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا گیا ہے۔ گذشتہ روز ایک خبر آئی تھی کہ بعض امیدوار چالیس ڈالر کے بدلے میں لوگوں کے ووٹ خرید رہے ہیں۔ عراق ہی سے خبر ہے کہ ایک رکن پارلیمنٹ اور الیکشن کا امیدوار شراب پینے والوں کے حقوق کا دفاع کررہا ہے۔ اس نے اپنی انتخابی مہم میں ’شراب پینے والے مجھے ووٹ دیں، میں ان کے اور وہ میرے حقوق کا دفاع کررہے ہیں‘۔ کا نعرہ اختیار کیا ہے۔

عراق میں مے نوشوں کو اپنی طرف مبذول کرانے والے یہ صاحب بہادر ’فائق الشیخ علی‘ کے نام سے جانے جاتےہیں۔ وہ خود بھی شراب کے رسیا ہیں اور اپنے ووٹروں کو بھی اس کی ترغیب دے رہے ہیں۔

الشیخ علی نے پارلیمنٹ کے باہر ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ میرے شراب نوش دوستو بتاؤ عراق کے قیام کو 8000 سال گذرچکے مگر آج تک کس نے تمہارا ساتھ دیا ہے۔ کسی ایک شخص کا نام بتا دو جس نے ہمارے حقوق کا دفاع کیا ہو اور ہماری شخصی آزادی کا مطالبہ کیا ہو۔ بالیقین ایسا کوئی شخص نہیں ملے گا، تو آؤ پھر میں آپ کے شراب نوشی کے حق کا دفاع کرتا ہوں، پارلیمانی انتخابات میں مجھے ووٹ دے کراپنا یہ حق پکا کرائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو حکومتیں شراب پر پابندی لگاتی ہیں شہریوں سے ان کی شخصی آزادی چھین رہی ہیں مگر ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

خیال رہے کہ فائق الشیخ علی ’التمدن اتحاد‘ کی قیادت کررہے ہیں۔ اس الائنس میں چار سیکولر سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔ خود فائق علی پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور ان کا شمار ملک کے ملبر سیاسی رہ نماؤں میں ہوتا ہے۔ تاہم ان کا خاندانی پس منظر مذہبی ہے۔ ملک کی مذہبی سیاسی جماعتوں نے فائق الشیخ علی کی طرز سیاست کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں