.

یمن: مغربی ساحل کے محاذ پر سرکاری فوج کا بھرپور حملہ اور کامیابیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں جمعے کے روز عرب اتحاد کے طیاروں کی بھرپور معاونت کے ساتھ سرکاری فوج کے حملے کے نتیجے میں باغی حوثی ملیشیا مغربی ساحل کے محاذ پر کئی تزویراتی ٹھکانوں سے محروم ہو گئی۔

سرکاری فوج نے البرح کے اطراف میں تزویراتی اہمیت کے حامل پہاڑی سلسلے پر کنٹرول حاصل کر لیا اور حوثیوں کی ایک اہم سپلائی کاٹ دی۔

یمن کی سرکاری فوج البرح کے علاقے کی جانب مسلسل پیش قدمی کر رہی ہے تا کہ تعز شہر کے اطراف حوثیوں کے محاصرے کو توڑا جا سکے اور الحدیدہ کی سمت پیش قدمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

عسکری ذرائع کے مطابق یمنی فوج کی پیش قدمی کے دوران حوثیوں کی صفوں میں بڑے پیمانے پر جانی اور مادی نقصانات کا سلسلہ جاری ہے۔ سرکاری فوج سے جھڑپوں اور اتحادی طیاروں کے فضائی حملوں میں درجنوں باغی مارے جا چکے ہیں۔

اس عسکری آپریشن میں ریپبلکن گارڈز کے بریگیڈز میں شریک ہیں جن کی قیادت سابق مقتول صدر علی عبداللہ صالح کے بھتیجے میجر جنرل طارق محمد صالح کے ہاتھ میں ہے۔ کارروائی میں عوامی مزاحمت کاروں پر مشتمل العمالقہ بریگیڈز بھی حصّہ لے رہے ہیں اور اتحادی طیاروں اور اپاچی ہیلی کاپٹروں کی بھرپور معاونت شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق العمالقہ بریگیڈز نے ریپبلکن گارڈز کے بریگیڈز کے ساتھ مل کر حوثیوں کے خلاف شدید جھڑپوں کے بعد المخا اور البرح کے سنگم پر پھیلے تزویراتی پہاڑی سلسلے پر کنٹرول حاص کر لیا۔ اس دوران کئی علاقوں میں حوثیوں کی اولین دفاعی لائنیں ڈھیر ہو گئیں۔

ادھر اتحادی طیاروں نے مغربی ساحل کے محاذ پر متعدد ٹھکانوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا جہاں حوثی ملیشیا کے ارکان مورچہ بند تھے۔ اس کے نتیجے میں درجنوں باغی ہلاک اور متعدد عسکری گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔

ٹوئیٹر پر مغربی ساحل کے محاذ سے متعلق صفحے پر پوسٹ کی گئی وڈیو کلپس میں البرح کے علاقے کی سمت یمنی فوج کی پیش قدمی کی کارروائی کو دکھایا گیا ہے۔