یمن : تنازعات کا سلسلہ جاری ، حوثیوں کے سربراہ کے چچا کا باغیانہ موقف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں حوثیوں کے سرغنے عبدالملک الحوثی کے داماد اور باغیوں کی سپریم سیاسی کونسل کے نئے سربراہ مہدی المشاط کا پہلا فیصلہ ہی حوثیوں کے مختلف دھڑوں کے درمیان تنازعات کو بڑھانے کا ذریعہ بن گیا۔

المشاط نے منصب سنبھالنے کے بعد پہلے فیصلے میں مجلس شوری میں 32 ارکان کا تقرر کیا۔ ان میں حوثیوں کے سربراہ کا چچا اور صنعاء میں حکمراں اصل شخصیت عبدالکریم امیر الدین الحوثی شامل تھا تاہم عبدالکریم نے اس فیصلے کو مسترد کر دیا۔

حوثیوں کے زیر کنٹرول یمنی خبر رساں ایجنسی نے ہفتے کے روز خبر دی کہ مجلس شوری میں مقرر 32 ارکان میں سے 27 نے المشاط کے سامنے حلف اٹھا لیا جب کہ بقیہ 5 ارکان غیر حاضر رہے۔ حلف نہ اٹھانے والوں میں اہم ترین شخصیت عبدالکریم الحوثی کی ہے۔ بقیہ چار ارکان میں عبدالملک الحوثی کا ایک داماد اور تین عبدالکریم الحوثی کے زیر قیادت دھڑے کے ارکان ہیں۔

حوثی قیادت کے نزدیکی ذرائع کا کہنا ہے کہ 29 اپریل کو مذکورہ ارکان کے تقرر کے فیصلے کے بعد حلف اٹھانے میں چھ روز کی تاخیر ہوئی۔ اس دوران حوثیوں کے سرغنے کے چچا کو یہ فیصلہ قبول کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی تاہم کوئی فائدہ نہ ہوا۔

ذرائع کے مطابق عبدالکریم الحوثی کی طرف سے کئی شرائط پیش کی گئی ہیں۔ ان میں مجلس شوری کا سربراہ ہونا، اسے پارلیمنٹ کے اختیارات منتقل کرنا اور دارالحکومت صنعاء میں حوثی جماعت کی انتظامیہ میں اس کے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا شامل ہے۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ عبدالکریم الحوثی اور حوثی رہ نما محمد علی الحوثی کے نزدیک مہدی المشاط سپریم سیاسی کونسل کے سربراہ کے منصب کے لیے نا اہل ہے۔ دونوں شخصیات خود کو اس منصب کے لیے زیادہ مستحق سمجھتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں