ایران ہم پر جوابی میزائل حملے کی تیاریاں کر رہا ہے: اسرائيل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اسرائیلی وزارت دفاع نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس نے حال ہی میں پتہ چلایا ہے کہ ایران شمالی اسرائیل پر میزائل حملے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ یہ تیاری شام میں پے درپے حملوں بالخصوص حمص کے قریب التیفور کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنائے جانے کا جواب دینے کے لیے کی جا رہی ہے۔

اِفشا ہونے والی معلومات کے مطابق ایران کی القدس فورس نے ایران کے زیر انتظام ملیشیاؤں اور حزب اللہ کے ارکان پر مشتمل میزائل یونٹس قائم کیے ہیں تا کہ تہران کو براہ راست الزامات کی زد میں آنے سے روکا جا سکے۔ ان یونٹس کو میزائلوں کا ایک حصّہ حوالے کر دیا گیا ہے جب کہ دیگر حصّے آئندہ دنوں میں شام پہنچا دیے جائیں گے۔

شامی اراضی سے ہونے والے متوقع میزائل حملوں میں اسرائیل کے شمال میں عسکری اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ان حملوں کا اصلی وقت لبنانی انتخابات گزرنے کے 24 گھنٹے بعد تھا تا کہ اسرائیل کو یک دم چونکا دیا جائے۔

اتوار کے روز سکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں اسرائیلی فوج نے باور کرایا کہ وہ دو طریقوں پر میزائل حملوں کے امکان کا مقابلہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ ان میں فضائی دفاعی نظام کی تنصیب اور شمالی اسرائیل میں میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنا ہے۔

چند ہفتوں قبل تل ابیب کی جانب سے ظاہر کی جانے والی انٹیلی جنس معلومات کے مطابق شام میں ایرانی عسکری وجود شام کے 5 ہوائی اڈوں پر مرکوز ہے۔ یہ ہوائی اڈّے ایرانی فضائی اڈوں کے علاوہ میزائلوں اور گولہ بارود کے گوداموں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ مزید برآن جدید ترین ریڈار نظام بھی نصب کیے گئے ہیں جنہوں نے کچھ عرصہ قبل اسرائیلی لڑاکا طیارہ مار گرانے میں کردار ادا کیا تھا۔

اسرائیلی اندازوں کے مطابق ایران جواب دینے کا مصمم ارادہ رکھتا ہے تاہم یہ محدودہ پیمانے پر ہو گا۔ ایران ہر صورت میں براہ راست مقابلے پر مجبور ہونے سے گریز کی کوشش کرے گا کیوں کہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کو واضح برتری حاصل ہے۔

ایران کی تیاری کے حوالے سے حالیہ انکشاف پر اسرائیل کی مختلف سکیورٹی اور عسکری شخصیات نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے۔ ایہود باراک کا کہنا ہے کہ "ایرانی ذہین لوگ ہیں۔ ہم اُس ایرانی افسر کو جانتے ہیں جس نے انٹیلی جنس ذرائع کو خطرے سے آگاہ کیا۔ میزائل درحقیقت اسرائیل کے لیے خطرہ نہیں اور ہم اس سے نمٹ سکتے ہیں۔ ایران کے ساتھ کوئی جنگ نہیں۔ البتہ اہم بات یہ ہے کہ نیتن یاہو کے ساتھ عجیب معاملات چل رہے ہیں۔ ایہود باراک کا اشارہ اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ جاری حالیہ فوجداری تحقیقات کی جانب تھا۔

ایہود باراک کے مطابق اسرائیل کی جانب سے شروع کی جانے والی سابقہ تمام جنگیں ناکامی سے دوچار ہوئیں۔ ان میں لبنان کی پہلی اور دوسری جنگ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2006ء میں حزب اللہ کے پاس 14 ہزار میزائل تھے اور آج وہ 1.3 لاکھ میزائل رکھتی ہے۔

ادھر بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ "اسرائیل شام میں ایران کو قدم جمانے سے روکنے کے لیے پُر عزم ہے اور اگر یہ کسی جنگ کے مرہون منت ہے تو ایسا ہو جانا چاہیے"۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے اس کام سے اجتناب برتا تو اس کی بہت بھاری قیمت ادا کرنا ہو گی۔

اسرائیلی وزیراعظم کے مطابق وہ بدھ کے روز روسی صدر ولادیمر پوتین کے ساتھ شام میں ایرانی وجود کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔ غالبا نیتن یاہو روسی صدر کو اسرائیل کا وہ پیغام گوش گزاریں گے جو وہ دراصل ایران کو پہنچانا چاہتے ہیں اور یہ کہ ایران کی انتقامی جوابی کارروائی کے ردّ عمل میں شام میں تہران کے تمام تر اہداف کو غیر مسبوق نوعیت سے نشانہ بنایا جائے گا۔

اسی طرح اسرائیلی وزیر توانائی نے عبرانی اخبار "يديعوت احرونوت" کی ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "بشار الاسد کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ شامی اراضی سے ایران کو اسرائیل کے خلاف کارروائی کی اجازت دی گئی تو ہم شامی صدر کو ہلاک کر کے اس کی حکومت کے سقوط پر مجبور ہو سکتے ہیں"۔

یہ درست ہے کہ ولادیمر پوتین کو اس بات پر کوئی اعتراض نہ ہو گا کہ ایرانی وجود کو محدود پیمانے پر نشانہ بنایا جائے تا کہ تہران پر واضح ہو جائے کہ وہ روسی ہدایات کے تحت ہے۔ مبصرین کے نزدیک پوتین اسرائیل کے خلاف ایرانی جوابی کارروائی پر بھی معترض نہیں ہوں گے تا کہ تل ابیب پر بھی واضح ہو جائے کہ طاقت کی ایک حد ہے۔ البتہ وہ تہران کے ساتھ اپنے اتحاد سے دست بردار نہیں ہوں گے۔ اس لیے کہ ایران کی زیر انتظام ملیشیائیں ایک عرصے سے شام میں روسی افواج کے لیے پیادہ فوج بنی ہوئی ہیں۔

علاوہ ازیں نیتن یاہو روسی صدر پر اس بات کے لیے بھی دباؤ ڈالیں گے کہ وہ شامی حکومت کو S-300 فضائی دفاعی نظام فراہم نہ کریں جو شام، لبنان اور اردن یہاں تک کہ اسرائیل کی فضا میں بھی اسرائیلی طیاروں کی اڑان کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے بشار الاسد کے حوالے کیے جانے کی صورت میں اس نظام کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں