جوہری سمجھوتے سے نکلنے کی صورت میں امریکا ندامت سے دوچار ہو گا: روحانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ امریکا کو 2015ء میں عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پائے گئے جوہری معاہدے سے دست بردار ہونے کی صورت میں ندامت اٹھانی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ تہران امریکا کے اُس حالیہ دباؤ کے خلاف بھرپور مزاحمت کرے گا جو وہ خطّے میں ایران کے اثر و رسوخ پر روک لگانے کے لیے ڈال رہا ہے۔

پیر کے روز سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے براہ راست خطاب میں روحانی کا کہنا تھا کہ "ہم انہیں بارہا بتا چکے ہیں کہ ہم ایٹم بن حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں اور نہ کریں گے۔ تاہم اگر انہوں نے ایران کو کمزور کرنے اور خطّے یا دنیا میں اس کے رسوخ کو کم کرنے کی کوشش کی تو تہران بھرپور مزاحمت کرے گا"۔

ایرانی ٹیلی وژن نے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے بھی امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری سمجھوتے کی خلاف ورزی پر سامنے آنے والا سخت جواب امریکا کے لیے کسی صورت بھی مسرّت کا باعث نہیں ہو گا"۔

اس سے قبل ایرانی صدر حسن روحانی نے اتوار کے روز کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوہری سمجھوتے کے خاتمے کے لیے کسی بھی فیصلے سے نمٹنے کی غرض سے منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا ایسا کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اس کو اس پر پچھتانا پڑے گا۔

حسن روحانی نے ایک نشری تقریر میں کہا کہ ’’ہم نے جوہری سمجھوتے کے بارے میں صدر ٹرمپ کے فیصلے کی مزاحمت کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر امریکی جوہری ڈیل سے نکل جاتے ہیں تو انھیں اس پر تاریخی پچھتاوا ہوگا‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں