جوہری معاہدے کی ممکنہ منسوخی سے تیل اور ہوابازی کے شعبے کی کمپنیوں کے سمجھوتے خطرے میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی نیٹ ورک "ABC news" کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی جوہری معاہدے سے امریکا کے دست بردار ہونے کا امکان ہوابازی اور تیل کے سیکٹر کی کمپنیوں کے تہران کے ساتھ سمجھوتوں کے لیے خطرہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق اُن تمام کثیر القومی کمپنیوں کے معاہدے جن کا دنیا بھر میں امریکا کے ساتھ تجارتی اور بینکاری تعلق ہے، امریکا کی جانب سے پابندیوں کے دوبارہ عائد کیے جانے پر خطرے سے دوچار ہوں گے۔

یورپی گروپ ایئربس نے دو سال سے ایرانی فضائی کمپنی کے ساتھ 19 ارب ڈالر کے 100 طیاروں کی فروخت کا معاہدہ طے کر رکھا ہے۔

اس کے کچھ عرصے بعد امریکی بوئنگ کمپنی بھی ایرانی فضائی کمپنی ایران ایئر کو 17 ارب ڈالر مالیت کے 80 طیاروں کی فروخت پر آمادہ ہو گئی۔ علاوہ ازیں بوئنگ کمپنی نے ایرانی فضائی کمپنی "آسمان" کے ساتھ بھی 3 ارب ڈالر کے طیارے فروخت کرنے کا معاہدہ طے کیا۔

مذکورہ امریکی چینل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیل کے سیکٹر کی عالمی کمپنیاں امریکی پابندیوں کے دوبارہ عائد کیے جانے کے اندیشے کے سبب اپنے معاہدوں پر عمل درامد سے خوف کھا رہی ہیں۔ سوائے فرانسیسی ضخیم کمپنی "ٹوٹل" جس نے جولائی 2017ء میں ایران اور ایک چینی آئل کمپنی کے ساتھ 20 سال کی مدت کے معاہدے پر دستخط کیے۔ تقریبا 20 ارب ڈالر مالیت کے اس معاہدے کے تحت ایران کے جنوب میں گیس فیلڈ کو ترقی دی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں