.

درنہ میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا وقت آن پہنچا: مارشل حفتر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے مرد آہن خلیفہ حفتر نے درنہ شہر کی باغیوں سے بازیابی کے لئے فوجی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ مشرقی لیبیا میں درنہ اس وقت واحد شہر ہے کہ جو فیلڈ مارشل حفتر کے زیر نگیں علاقوں میں ان کے کنٹرول سے باہر ہے۔

“درنہ کی آزادی کا لمحہ آن پہنچا ہے،” فیلڈ مارشل حفتر نے اعلان کرتے ہوئے کہ ان کی فوج نے پہلے ہی شہر میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنا شروع کر دیئے ہیں۔

فوجی وردی میں ملبوس جنرل حفتر بنغازی میں ہونے والی فوجی پریڈ سے خطاب کر رہے تھے جس میں ان کی زیر کمان وکھری طرز کے فوجیوں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔

پریڈ کا انعقاد دراصل مارشل حفتر کے دہشت گردی کے خلاف چار برس شروع کئے جانے والے آپریشن کی “کامیابی” کا جشن منانا تھا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں انتہا پسندوں کو بنغازی سے نکال باہر کیا گیا۔ بنغازی دو ہزار گیارہ کو لیبیا میں آنے والے انقلاب کا اصل ماخذ تھا۔

مارشل حفتر اپنے حالیہ اعلان سے دو ہفتے قبل پیرس میں زیر علاج رہے ہیں اور چند دن پہلے ہی لیبیا لوٹےتھے۔

مشرقی لیبیا کی ایک طاقتور آواز نے اپنے زیر کمان فوجیوں کو ہدایت کر رکھی ہے کہ ورنہ درنہ شہر میں مقیم ڈیڑھ لاکھ باسیوں کو جلد از جلد القاعدہ نواز مجاہدین شوریٰ کونسل کے چنگل سے آزاد کرائیں۔