.

"پاکستان اور سعودی عرب میں تاریخ، مذہب اور ثقافت کے انتہائی گہرے رشتے ہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صدر مملکت ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب تاریخ، مذہب اور ثقافت کے انتہائی گہرے رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں جن کی مثال نہیں ملتی۔ مستقبل میں ان تعلقات میں مزید گہرائی اور گرمجوشی پیدا ہو گی۔

صدر مملکت نے یہ بات سعودی عرب کے سیکرٹری تعلیم پروفیسر ڈاکٹر حمد ناصر المحرج سے بات چیت کرتے ہوئے کہی جنہوں نے ایوان صدر میں اپنے وفد کے ہمراہ ان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعدالمالکی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر معصوم یسین زئی اور صدر پروفیسر ڈاکٹر یوسف اے الدرویش سمیت سعودی وفد میں شامل دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ اعلیٰ وفود کے دوروں سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید مدد ملے گی اور خاص طور پر تعلیم کے شعبے میں تعاون میں مزید اضافہ ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا توازن اپنی گنجائش سے بہت کم ہے جس میں اضافے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ توازن بہتر ہو گا اور دونوں ملکوں کے مفاد میں ہو گا۔ انھوں نے توقع ظاہر کی کہ سعودی سرمایہ کار اور تاجر پاکستان میں صنعت وتجارت اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع سے فائدہ اٹھائیں گے۔

صدر مملکت نے کہا کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی کارکردگی شاندار ہے۔ اس سلسلے میں سعودی عرب کا تعاون قابل قدر ہے۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کو تعلیم کی بہتر سہولتوں کی فراہمی کے لیے سعودی عرب کے کسی شہر میں اس جامعہ کا کیمپس قائم ہونا چاہیے۔

اس موقع پر سعودی عرب کے سیکرٹری تعلیم ڈاکٹر حمد ناصر المحرج نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب پاکستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے اپنی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب نے پاکستانی طالب علموں کے لیے وظائف کی تعداد بڑھا کر 580 کر دی ہے۔