.

شام میں ایرانی عسکری سرگرمیوں پر نظر ہے: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ شام میں ایران کی مبینہ عسکری سرگرمیوں پر گہرے نظر رکھے ہوئے ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تل ابیب نے وادی گولان میں پناہ گاہوں کو تیار رکھنے کے احکامات دینے کے ساتھ شام میں ایران کی عسکری نقل وحرکت پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی بھی ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لیے شام کی سرحد پر دفاعی نظام نصب کر دیا گیا ہے اور فوج شام کے اندر ہونے والی ایرانی سرگرمیوں کو مانیٹر کر رہی ہے۔

ادھر اسرائیل نے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے سے علاحدگی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر نے ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے سے علاحدگی کا اعلان کر کے جرات مندانہ اور درست سمت میں قدم اٹھایا ہے۔ اسرائیل اس فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہے۔

نیتن یاھو کا مزید کہنا تھا کہ تل ابیب ٹرمپ کے فیصلے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس کی بھرپور حمایت کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے کے بعد ایران کی دشمنانہ روش میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع آوی گیڈور لائبرمین نے بھی ٹرمپ کے اعلان کو جرات مندانہ اور قابل تحسین اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے سے علاحدگی کے بعد ایرانی رجیم کے سقوط کی راہ ہموار ہوگی۔