ایرانی جوہری معاہدے سے امریکی علاحدگی خوش آئند قدم ہے: نصر الحریری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی اپوزیشن پر مشتمل مذاکراتی کمیشن کے سربراہ نصر الحریری نے ایرانی نیوکلیئر معاہدے سے امریکی علاحدگی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

نصر الحریری ان دنوں لندن کے دورے پر ہیں جہاں انھوں نے کہا ہے یہ “اعلان درست سمت میں قدم ہے" ، جس سے ان علاقائی معاملات کے حل کا “حقیقی موقع" ملا ہے جن میں ایران ملوث ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن سے ملاقات کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے نصر الحریری نے کہا کہ “دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں کہ جہاں شام کی طرح ایرانی ناسور کے اثرات محسوس نہ کئے جاتے ہوں۔”

انھوں نے کہا کہ یہ درست سمت میں کیا جانا والا اقدام ضرورہے، تاہم علاقے میں ایرانی نفوذ روکنے کے لئے "صرف یہ بات کافی نہیں ہے۔"

اس سے پہلے برطانوی وزیر خارجہ نے قانون سازوں کو بتایا کہ برطانیہ نے امریکی فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ ایرانی ایٹمی معاہدہ کو کم تر نہ جانے۔ بورس جانسن کے بقول ان کا ملک معاہدے کی پاسداری کرتا رہے گا۔

انھوں نے امریکا سے کہا کہ وہ ایران سے متعلق اپنے منصوبے سامنے لائیں۔ نصر الحریری نے کہا کہ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکا، شام میں ایرانی اقدامات کا توڑ کرنے کے لئے اپنی ترجیجات متعین کرے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران مسئلہ کا حل شام کے معاملے پر توجہ دیئے بغیر ممکن نہیں۔”ایران نے شام میں بہت پہلے مداخلت کی تھی اور اس وقت ہم بیرونی طاقت کے قبضہ جیسی صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں۔

شامی رہنما نے خبردار کیا کہ ان کےملک کو بیرونی طاقتوں کے لئے میدان جنگ بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انھوں نے کہا کہ عام شہریوں کے تحفظ اور تنازع کے حل کی خاطر وسیع البنیاد جامع تزویراتی کوششوں کی ضرورت ہے۔

نصر الحریری نے کہا کہ اس تناظر میں علاقائی عناصر کو شام میں اپنے قومی مفادات کے تھیئٹر کے طور پراستعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں