امریکی سفارتخانے نے ٹوئٹر پر اپنا نام تل ابیب سے القدس رکھ لیا

یہ اقدام القدس کو اسرائیلی دارلحکومت تسلیم کرنے سے متعلق 'ڈی فیکٹو' اعلان ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل میں امریکی سفارتخانہ کی اگلے ہفتے تل ابیب سے یروشیلم منتقلی کے موقع پر واشنگٹن نے اسرائیلی سفارتخانہ کا ٹویٹر ہینڈلر تبدیل کر لیا ہے۔

سفارتخانہ نے جمعرات کے روز مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ہی کے ذریعے اطلاع دی کہ اس کا @usembassyta اکاونٹ اب تبدیل ہو کر “@USEmbassyJerusalem” ہو گیا ہے۔ درست ٹویٹر ہینڈلر یہ ہو گا @USEmbassyjlm

اسرائیل میں امریکی سفارتخانہ نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ کا بیک ڈراپ تبدیل نہیں کیا۔ فی الحال تل ابیب کی ساحلی پٹی ہی کو بطور بیک ڈراپ استعمال کیا جا رہا ہے۔ سفارتخانے کا کہنا ہے کہ وہ ابھی نئے ٹویٹر ہینڈلر کے بیک ڈراپ کے لئے کیسی مناسب ہیڈر فوٹو کی تلاش میں ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ صدارتی مہم کے دوران امریکی سفارتخانے کی تل ابیب سے یروشلم منتقلی سے متعلق کئے گئے وعدوں کی تکمیل کرنے میں مصروف ہے۔ یہ اقدام شہر کو اسرائیلی دارلحکومت تسلیم کرنے سے متعلق ڈی فیکٹو اعلان ہے۔

اس فیصلے سے فلسطینی نالاں ہیں کیونکہ وہ مشرق وسطیٰ کی 1967 میں ہونے والی جنگ میں اسرائیلی زیر نگین ہونے والے مشرقی یروشیلم کو اپنی پیش آئند فلسطینی ریاست کا صدر مقام بنانا چاہتے ہیں۔

جس ملکوں کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ہیں، ان تمام کے سفارتخانے تل ابیب میں قائم ہیں۔ امریکی سفارتخانہ کی یروشلیم منتقلی کی تقریب قیام اسرائیل کی 70 ویں سالگرہ ] 14 مئی[ کے موقع پر سوموار کو منعقد ہو رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں