.

کیا سلامتی کونسل سیف الاسلام کی گرفتاری کے لیے مداخلت کرے گی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بین الاقوامی عدالت انصاف نے سلامتی کونسل کو درخواست دی ہے کہ وہ لیبیا کے مقتول لیڈر معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام اور دو دیگر اشتہاریوں کی گرفتاری کےلیے عدالت کی مدد کرے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عالمی عدالت انصاف کی طرف سےیہ درخواست اس وقت دی گئی جب لیبیا کی حکومت نے تینوں اشتہاریوں کو’آئی سی سی‘ کے حوالے کرنے سے انکار کردیا ہے۔

عالمی فوج داری عدالت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ لیبی فوج کے ایک افسر محمود الورفلی، سیف الاسلام القذافی اور قذافی کے دور کے انٹیلی جنس چیف التھامی بن خالد کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات عاید ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ اپوزیشن کارکنوں کے خلاف ناروا سختیوں اور جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں۔

عدالت کا کہنا ہے کہ وہ جنگی جرائم میں مطلوب تینوں لیبی ملزمان کی گرفتاری میں ناکام رہی ہے۔ اس لیے معاملے کو سلامتی کونسل میں پیش کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی قوانین کے ماہر عبداللہ العبیدی کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل عالمی عدالت انصاف کی درخواست پر حرکت میں آسکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کے چارٹر کے آرٹیکل سات میں یہ گنجائش موجود ہے کہ سلامتی کونسل جنگی جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی نہ ہونے پران پر پابندیاں عاید کرسکتی ہے۔ نیز انہیں تحفظ دینے والوں کے خلاف بھی سلامتی کونسل پابندیوں سمیت متعدد دیگر اقدامات کی مجاز ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل سے لیبیا کے مذکورہ تینوں اشتہاریوں کے خلاف کارروائی کا امکان کم ہے کیونکہ سلامتیی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں روس بھی شامل ہے جسے ویٹو پاور کا درجہ حاصل ہے۔ روس قذافی رجیم کا حلیف رہا ہے۔ اس کے علاوہ لیبیا میں متعدد افراد کے خلاف عالمی عدالت کے مقدمات پر روس تحفظات کا بھی اظہار کرچکا ہے۔