.

اسرائیل نے فلسطینیوں کے مظاہروں کے بعد غزہ کی سرحدی گذرگاہ بند کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی اور فلسطینی حکام نے غزہ اور اسرائیل کے درمیان اشیاء کی نقل وحمل کے لیے استعمال ہونے والی ایک سرحدی گذرگاہ کی بندش کی تصدیق کردی ہے۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس گذرگاہ کو جمعہ کو فلسطینیوں کے مظاہروں کے دوران نقصان پہنچا تھا۔

اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ کے جنوب میں واقع کیرم شالوم گذرگاہ کی فلسطینی طرف کو مظاہروں کے دوران میں شدید نقصان پہنچا تھا لیکن وہاں سے چند سو میٹر کے فاصلے پر واقع گذرگاہ کی اسرائیلی طرف کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ یہ بارڈر کراسنگ مرمت تک بند رہے گی اور ا س کے بعد اس کا جائزہ لینے کے بعد کو’لنے کا فیصلہ کیا جائے گا‘‘۔اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’کراسنگ پر واقع ایندھن کے ٹرمینل زیادہ نقصان پہنچا ہے اور وہ مکمل طور پر ناقابل ا ستعمال ہوگیا ہے‘‘۔

اسرائیلی فوج نے حماس کی سرپرستی میں احتجاج کرنے والے فلسطینی مظاہرین کو بارڈر کراسنگ کو پہنچنے والے نقصان کا مورد الزام ٹھہرایا ہے لیکن اس کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔

دوسری جانب بارڈر کراسنگ پر اسرائیل سے رابطے کے ذمے دار فلسطینی ادارے نے بھی اس کی بندش کی تصدیق کی ہے۔

واضح رہے کہ کیرم شالوم کی گذرگاہ ہی اسرائیل اور غزہ کی پٹی کے درمیان اشیاء کی نقل وحمل کے لیے کھلی تھی۔ یہیں سے روز مرہ استعمال کی اشیاء اور سامان غزہ لایا جاتا ہے، مگر اس کو بھی اب بند کردیا گیا ہے۔

دریں اثناء مصر نے غزہ کی پٹی کے ساتھ واقع رفح کے مقام پر سرحدی گذرگاہ کو ہفتے سے چار روز کے لیے کھول دیا ہے۔

واضح رہے کہ غزہ میں مقیم فلسطینی گذشتہ چند ہفتوں سے ہر جمعہ کو اسرائیل کے قبضے اور مہاجرین کی واپسی کے حق کے لیے احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔ اب وہ امریکی سفارت خانے کی 14 مئی کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس میں منتقلی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور توقع ہے کہ وہ سوموار کو بھی اسرائیل اور امریکا کے خلاف ا حتجاجی ریلیاں نکالیں گے۔